30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھ پڑھ کے تو نَماز، دُعا صِدْقِ دِل سے مانگ مَقْصَد وہ کیا ہے جو نہیں مِلتا نَماز میں
مَدْہَوش و مَسْتِ خواب، سحر میں ہے بے نَماز اور اُٹھ کے آیا عاشِقِ مولا نَماز میں
مَت کر قَضا نَماز، کھڑی سَر پہ ہے قَضا سُن مالِکِ قَضا کا تقاضا نَماز میں
گر قَبْر کی اندھیری سے ڈرتا ہے، پڑھ نَماز ہے ظُلْمَتِ لَحَد کا اُجالا نَماز میں
نَرْمی سے کرتا ہے ملک الموت قَبْض جان تلخیِ موت کا ہے مُداوا نَماز میں
یہ قَبْر میں اَنیس، یہ مَـحْشَر میں ہو شفیع عُقبیٰ کی راحتیں ہیں سراپا نَماز میں
رکھے گا سَربُلَند انہیں پاک بے نیاز ہے جن کا سَر نیاز سے جھکتا نَماز میں
بیدؔل نَماز کیوں نہ ہو مِعْرَاجِ مُومِـنِیْن پاتا عُروج و قُرْب ہے بندہ نَماز میں[1]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نفلی روزے اور صَحَابِیّات طَیِّبَات
پیاری پیاری اسلامی بہنو! فَرْض روزوں کے عِلاوہ نَفْل روزے بھی رکھنے چاہئیں کہ اس میں بے شُمار دینی و دُنْیَوی فوائد ہیں اور ثواب تو اِتنا ہے کہ جی چاہتا ہے بس روزے رکھتے ہی چلے جائیں۔مزید دینی فوائد میں اِیمان کی حِفَاظَت،جہنَّم سے نَجات اور جنَّت کا حُصُول شامِل ہیں اور جہاں تک دُنْیَوی فوائد کاتَعَلُّق ہے تو روزہ میں دن کے اندر کھانے پینے میں صَرْف ہونے والے وَقْت اور اَخراجات کی بچت، پیٹ کی اِصلاح اور بَہُت سارے اَمْرَاض سے حِفَاظَت کا سامان ہے اور تمام فوائد کی اَصل یہ ہے کہ اِس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ راضی ہو تاہے۔[2] اُمُّ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ میرے سرتاج، صاحِبِ مِعراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو بندہ روزہ کی حَالَت میں صُبح کرتا ہے، اُس کیلئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس کے اَعْضا تسبیح کرتے ہیں اور آسمانِ دُنیا پر رَہنے والے (فِرِشتے) اس کے لیے سورج ڈوبنے تک مَغْفِرَت کی دُعا کرتے رہتے ہیں۔اگر وہ ایک یا دو۲ رَکْعتیں پڑھتا ہے تو یہ آسمانوں میں اس کیلئے نُوربن جاتی ہیں اور حُورِ عِین (یعنی بڑی آنکھوں والی حُوروں) میں سے اُس کی بیویاں کہتی ہیں:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اس کو ہمارے پاس بھیج دے ہم اس کے دیدار کی بَہُت زِیادہ مُشتاق ہیں اور اگر وہ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ یا سُبْحٰنَ الله یا اللهُ اَکْبَر پڑھتا ہے تو 70 ہزار فِرِشتے اُس کا ثواب سُورَج ڈوبنے تک لکھتے رہتے ہیں۔[3]
پیاری پیاری اسلامی بہنو!نَفْل روزوں پر حاصِل ہونے والے اَجَر و ثواب کے حُصُول کے لیے صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کس قَدْر اِہتِمام فرمایا کرتیں دَرْج ذیل رِوایات سے مُلَاحَظہ کیجئے:
}1{سخت گرمی میں بھی روزہ نہ چھوڑا
اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اس قَدْر روزے رکھا کرتی تھیں کہ اس کے سَبَب کمزور ہو جایا کرتیں۔[4] ایک مرتبہ (آپ کے بھائی)حضرت سیِّدُنا عبدُالرَّحمٰن بن ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما عَرَفَہ کے دِن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس تشرِیف لائے،دیکھا تو آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا روزے سے ہیںاور (گرمی کی شدَّت کے باعِث) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپر پانی چِھڑکا جا رہا تھا۔ عرْض کرنے لگے: آپ روزہ اِفطار کر لیجئے۔ فرمانے لگیں:میں اِفطار (کیسے) کروں؟ کیونکہ میں نے رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ اِرشَاد فرماتے سناہے کہ عَرَفَہ کے دِن کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفّارہ ہے۔[5]
}2{ کثرتِ صیام کی برکت
اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا عِبَادَتِ اِلٰہی کی بے حد شوقین تھیں، اس قَدْر عِبَادَت میں مگن رہتیں کہ دن روزہ میں اور رات بارگاہِ خُداوندی میں بَسَر فرماتیں۔ اللہعَزَّ وَجَلَّ کے ہاں آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے اس عَمَلکو اتنی پذیرائی ملی کہ ایک مرتبہ حُضُورِ اَکْرَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو طلاق دینے کا اِرَادہ فرمایا تو بحُکْمِ خُداوندی جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے حاضِر ہو کر عَرْض کی: لَا تُطَلِّـقْھَا فَاِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ وَ اِنَّهَا زَوْجَتُكَ فِی الْـجَنَّة۔ یعنی انہیں طلاق نہ دیجئے کیونکہ یہ روزہ دار و شب بیدار ہیں اور یہ جنّت میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اہلیہ ہیں۔[6] آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے شب بیداری اور دن میں روزہ رکھنے کا عَمَل پوری زِنْدَگی برقرار رکھا یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے روزے کی حَالَت میں ہی داعیِ اَجَلْ کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع