30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیاری پیاری اسلامی بہنو!نَمازِ چاشت کے ثُبُوت پر سب سے قَوِی رِوایَت بھی ایک صحابیہ سے ہی مَرْوِی ہے جو کہ اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی سگی بہن ہیں، یہی وہ صحابیہ ہیں جن کے گھر سے آقائے دو۲ جَہاں، سَیّاحِ لامکاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شَبِ مِعْرَاج اللہعَزَّ وَجَلَّ کے دیدار کے لیے تشریف لے گئے تھے، اس جلیل القدر ہستی کا نام حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا ہے۔[1]
کثیر صحابیات کا اس نَماز کی ادائیگی پر عَمَل رہا مگر اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مُتَعَلِّق مَنْقُول ہے کہ آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نَمازِ چاشت کی پابندی میں بَہُت مُمتاز تھیں۔چُنَانْچِہ،
مَنْقُول ہے کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا چاشت کی آٹھ۸رَکْعَتیں پڑھا کرتیں اور فرماتیں کہ اگر(اس وَقْت)میرے ماں باپ بھی اُٹھا دیئے جائیں تب بھی میں یہ رَکْعَتیں نہ چھوڑوں۔ [2] مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:یعنی اگر اِشراق کے وَقْت مجھے خَبَر ملے کہ میرے وَالِدَین زِندہ ہو کر آ گئے ہیں تو میں اُن کی مُلاقات کے لیے یہ نَفْل نہ چھوڑوں بلکہ پہلے یہ نَفْل پڑھوں پھر ا ُن کی قَدَم بَوسی کروں۔[3]
اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ آپ فرائض کے عِلاوہ بھی کَثْرَت سے نَماز کا اِہتِمام فرمایا کرتی تھیں۔ چُنَانْچِہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ اور سَیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَرْوِی ہے: رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جوشخص 12 رَکْعَت سنتیں پابندی سے ادا کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے جنّت میں گھر بنائے گا۔(وہ رکعتیں یہ ہیں)چار۴ نَمازِ ظہر سے پہلے اور دو۲ بعد میں، دو۲ مَغْرِب کے بعد، دو۲ عشاکے بعد اور دو۲ فَجْر سے پہلے۔ [4]
ان 12 رکعات کے مُتَعَلّق اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: میں ہمیشہ یہ رکعتیں پڑھتی ہوں۔ [5] ایک اور رِوایَت میں یہ اَلْفَاظ ہیں: جب سے میں نے رسولاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ان رکعات کے مُتَعَلِّق سنا ہے تب سے کبھی ان کی ادائیگی کو تَرْک نہیں کیا۔ [6]
پیاری پیاری اسلامی بہنو! صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی نَفْلی نَماز پر اِس قَدْر اِسْتِقَامَت اُن عورتوں کے لیے تازیانۂ عِبْرَت (عِبْرَت کا کوڑا)ہے جو ساری ساری رات لَغْوِیات میں وَقْت برباد کرتیں اور پھر صُبْح دیر تک سوتی رہتی ہیں۔ نَفْل نَماز تو کیا فرائض میں بھی سستی بلکہ بعض نادان تو سِرے سے ہی نَماز چھوڑ دینے کی عادِی ہوتی ہیں۔
اللہعَزَّ وَجَلَّ ہمیں نماز پنج گانہ کے ساتھ ساتھ نَوَافِل پڑھنے کی بھی توفیق عَطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّم
مشہور صوفی شاعر مولانا محمد عبد السمیع بیدل رام پوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی اپنے شعری مجموعہ نُورِ ایمان میں نَماز کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں:
جَلْوَہ ہے خاص رَحْمَتِ حَق کا نَماز میں اَنْوَارِ قُدْس کا ہے نظارہ نَماز میں
مولیٰ سے اپنے مِلتا ہے بندہ نَماز میں اُٹھ جاتا ہے جُدائی کا پردہ نَماز میں
آ پہنچا خاص اپنے شہنشاہ کے حُضُور جب بندہ ہاتھ باندھ کے آیا نَماز میں
مولیٰ میں اور بندہ میں رہتا نہیں حِجاب بے پردہ ہے تجلّیِ مولیٰ نَماز میں
جب ہاتھ اُٹھائے باندھ کے نِیَّت تو یوں سمجھ دونوں جَہان سے ہاتھ اُٹھایا نَماز میں
کیا جانے تو رُکُوع و سُجُود و قُعُود کو ہے کِن حقیقتوں کا اِشَارَہ نَماز میں
اَلْحَمْد کی شروع تو ہر کَلِمَہ کا جواب مَعْبُودِ ذو الجلال سے پایا نَماز میں
حَمد و ثَنا دُرُود و قِرَاءَت دُعا سلام ہے جمیع ہر طرح کا وظیفہ نَماز میں
تَن کی صَفائی حَق کی رضا دل کی روشنی اے بندے خوبیاں نہیں کیا کیا نَماز میں
قبلہ کر اپنے قَلْب کا ربِّ کریم کو جس طرح منہ کا قبلہ ہے کعبہ نَماز میں
کیوں دَرْ بَدَرْ پِھرے وہ مَدَد مانگتا کہ جو اِیَّاكَ نَسْتَعِیْن ہے پڑھتا نَماز میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع