30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پردے کا اِہتِمام نہیں کرتیں، بلکہ اپنی بے پردگی کا عُذر یوں بیان کرتی ہیں کہ ہمارے لیے ایسا ممکن نہیں۔ ایسی تمام اِسلامی بہنوں کی ترغیب کے لیے حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی درج ذیل یہ حِکایَت ہی کافی ہے۔ چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر جب دشمنِ اسلام اَبُو جہل کے بیٹے حضرت سَیِّدُنا عِکْرِمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حکیم بنتِ حارِث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے اِسلام قبول کیا تو بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عِکْرِمہ (جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) یمن کی طرف بھاگ گئے ہیں اور وہ اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ آپ انہیں قتل کردیں گے، لہٰذا انہیں اَمان عطا فرمادیجئے۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے سَیِّدُنا عِکْرِمَہ کو اَمان دیدی ۔ پھر حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا عِکْرِمَہ کی تلاش میں باپردہ نکل پڑیں اور آخر تِہَامَہ کے ساحل پر جاپہنچیں۔ادھر عِکْرِمَہ بھی اسی ساحل پر پہنچ کر کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی ڈگمگانے لگی، کشتی بان نے کہا: اِخلاص سے رب کو یاد کرو۔ عکرمہ بولے:میں کون سے الفاظ کہوں؟ اس نے کہا :لَا اِلٰـهَ اِلَّا الله کہو !تو بولے: اس کلمہ کی وجہ سے تو میں یہاں تک پہنچا ہوں ، لہٰذا تم مجھے یہیں اُتار دو۔ اتنے میں حضرت سَیِّدَتُنا اُمّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے آپ کو دیکھ لیا اور ان سے کہنے لگیں: اے میرے چچا زاد! میں ایک ایسی عظیم ہستی کے پاس سے آرہی ہوں جو بَہُت زیادہ رحم دل اور احسان فرمانے والی ہے، وہ لوگوں میں سب سے افضل ہے۔ لہٰذا خود کو ہلاکت میں مت ڈالئے!آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے اِصرار پر عِکْرِمَہ رُک گئے، پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے انہیں اَمان کی یقین دہانی کراتے ہوئے واپسی کے لیے آمادہ کر لیا، اس کے بعد دونوں مکہ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً لوٹ آئے اور یوں حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اپنے شوہر حضرت سَیِّدُنا عِکْرِمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ باپردہ بارگاہِ نبوّت میں حاضِر ہوئیں تو انہوں نے اَمان کی یقین دہانی کے بعد اِسلام قبول کر لیا۔ [1]
پیاری پیاری اِسلامی بہنو! اس طویل حِکایَت میں ہم سب کے لیے بَہُت سے مَدَنی پھول موجود ہیں اور ان میں سب سے اَہَم مَدَنی پھول یہ ہے کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اِسلام لانے کے بعد اپنے شوہر کو بھی اِسلام کی حَقّانِیَّت کے سائے میں لانے کے لیے اس قدر طویل سفر کیا مگر اِسلامی تعلیمات پر عَمَل کسی بھی موقع پر ترک نہ کیا اور پُرمَشَقَّت سفر میں بھی باپردہ رہیں۔ یوں بالآخر ان کی اپنے گھر کو مَدَنی ماحول کا گہوارہ بنانے کی مَدَنی سوچ رنگ لائی اور ان کے شوہر بھی مَدَنی رنگ میں رنگ گئے۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اپنے گھروں کو مَدَنی ماحول کا گہوارہ بنانے کے لیے اگر آپ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی مشکلات کو یاد کرلیا کیجئے اور یاد رکھئے کہ اس راہِ پُر خَطَر پر چلنا بڑے دِل گردے کا کام ہے۔ سچی وَفا یہ ہے کہ جب خود مَدَنی ماحول کی برکتوں سے فیض یاب ہوں تو اپنے دیگر گھر والوں کو بھی تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی مُعطّر و مشک بارفضا سے دُور نہ رہنے دیجئے۔
پردے کا تیسرا اور سب سے کم تر دَرَجہ یہ ہے کہ عورت کم از کم اس قدر پردے کا اِہتِمام ضَرور کرے کہ جس قدر رب کی بارگاہ میں حاضِر ہوتے یعنی نماز پڑھتے وَقْت لازِم ہے۔ مُراد یہ ہے کہ نامحرم کے سامنے کم از کم سِتْرِعورت کا خیال ضَرور رکھے۔ چنانچہ،
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 308 صَفحات پر مشتمل کتاب اسلامی بہنوں کی نماز (حنفی) صَفْحَہ 91پر ہے:اِسلامی
[1] کنز العمال، کتاب الفضائل، فضائل الصحابة، عکرمه رضی الله عنه، المجلد السابع، ١٣ / ٢٣٢، حدیث: ٣٧٤١٦، مفهوماً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع