30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جِلْبَاب (برقع یا بڑی چادر) نہیں ۔تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی جِلْبَاب (بڑی چادر کا کچھ حِصّہ) اوڑھا لے۔[1]
پیاری پیاری اسلامی بہنو! معلوم ہوا عورت کو گھر میں ہی رہنا چاہئے اور اگر کبھی کسی شرعی مجبوری کی وجہ سے گھر سے باہَر نکلنا بھی پڑے تو بغیر پردہ کے بالکل نہ نکلے اور پردہ بھی ایسا کہ جسم کے کسی حِصّے پر کسی کی نگاہ نہ پڑے۔ چنانچہ اُمّ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ جب قرآنِ مجید کی یہ آیتِ مُبارَکہ نازِل ہوئی:
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ- (پ٢٢، الاحزاب:٥٩)
ترجمۂ کنزُالایمان:اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصّہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں۔
تو اَنصار کی خواتین سیاہ چادر اَوڑھ کر گھروں سے نکلتیں ، ان کو دُور سے دیکھ کر یوں لگتا کہ ان کے سروں پر کوّے بیٹھے ہیں۔[2]
گھر سے باہَر نکلنے کی احتیاطیں
پیاری پیاری اسلامی بہنو! معلوم ہوا اگر کسی وجہ سے گھر سے باہَر نکلنا پڑے اور شریعت بھی اس کی اِجازَت دیتی ہو تو گھر سے باہَر نکلتے وَقْت خوب خوب پردے کا اِہتِمام کر لیجئے۔ چنانچہ اس سلسلے میں اِسلامی بہنوں کو کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے؟ اس کے مُتَعَلّق دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 400 صَفحات پر مشتمل کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب صَفْحَہ42 پر شیخِ طریقت، اَمِیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوِی ضِیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: شَرعی اِجازَت کی صُورَت میں گھر سے نکلتے وَقْت اِسلامی بہن غیر جاذِبِ نظر کپڑے کا ڈِھیلا ڈھالا مَدَنی بُرقع اَوڑھے، ہاتھوں میں دستانے اور پاؤں میں جُرابیں پہنے۔ مگر دستانوں اور جُرابوں کا کپڑا اتنا باریک نہ ہو کہ کھال کی رنگت جھلکے۔ جہاں کہیں غیر مردوں کی نظر پڑنے کا اِمکان ہو وہاں چہرے سے نِقاب نہ اٹھائے مَثَلاً اپنے یاکسی کے گھر کی سیڑھی اور گلی مَحلّہ وغیرہ۔ نیچے کی طرف سے بھی اِس طرح بُرقع نہ اٹھائے کہ بدن کے رنگ برنگے کپڑوں پر غیر مردوں کی نظر پڑے۔ واضح رہے کہ عورت کے سر سے لیکر پاؤں کے گِٹّوں کے نیچے تک جسم کا کوئی حصّہ بھی مَثَلاً سر کے بال یا بازو یا کلائی یاگلا یاپیٹ یا پنڈلی وغیرہ اجنبی مَرد (یعنی جسں سے شادی ہمیشہ کیلئے حرام نہ ہو ) پر بلااِجازَتِ شَرْعی ظاہِر نہ ہو بلکہ اگر لباس ایسا مَہِین یعنی پتلا ہے جس سے بدن کی رنگت جھلکے یاایسا چُست ہے کہ کسی عُضْو کی ہَیْئَتْ (یعنی شکل و صورت یا اُبھار وغیرہ) ظاہِر ہو یادوپٹّہ اتنا باریک ہے کہ بالوں کی سیاہی چمکے یہ بھی بے پَردَگی ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، ولیِ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرتَبت، پروانَۂ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت، ماحِیِ بِدعَت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعِثِ خَیر وبَرَکت، حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:جو وَضْعِ لباس (یعنی لباس کی بناوٹ) وطریقَۂ پَوشِش ( یعنی پہننے کا انداز) اب عورات میں رائج ہے کہ کپڑے باریک جن میں سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بالوں یا گلے یا بازو یا کلائی یاپیٹ یا پِنڈلی کا کوئی حصّہ کُھلا ہو یوں توسِوا خاص مَحارِم کے جن سے نکاح ہمیشہ کو حَرام ہے کسی کے سامنے ہونا سخت حرامِ قطعی ہے۔ [3]
خواہ مخواہ کی عذر خواہی سے بچئے
پیاری پیاری اسلامی بہنو!ہم میں سے بعض وہ اِسلامی بہنیں جنہیں کسی مُعاشَرتی مجبوری کی بنا پر گھر سے باہَر بالخصوص کسی سفر پر نکلنا پڑتا ہے تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع