دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabiyat aur Parda | صحابیات اور پردہ

book_icon
صحابیات اور پردہ

جنازے پر کسی غیر کی نظر نہ پڑے

اسی طرح مروی ہے کہ حضرت سَیِّدَتُنا فاطِمۃ الزّہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے موت کے وَقْت یہ وصِیَّت فرمائی کہ بعدِ اِنتقال مجھے رات کے وَقْت دفن کرنا تاکہ میرے جنازے پر کسی غیر کی نظر نہ پڑے۔[1]

چُو زَہرا باش از مخلوق رُو پوش

کہ دَر آغوش شبیر ے بَہ بینی

یعنی حضرت سَیِّدَتُنا فاطِمۃ الزّہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرح پرہیز گار و پردہ دار بنو تاکہ اپنی گود میں حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسی اولاد دیکھو۔

کیا پردے کے پہلے درجہ پر عمل صحابیات ہی کا کام تھا؟

پیاری پیاری اِسلامی بہنو!پہلے درجہ کے پردے و حِجاب پر عَمَل کرنے والی صحابیات کی سیرتِ طیبہ کا یہ روشن پہلو آج کے دَور کی اِسلامی بہنوں کے لیے عَمَلینَمُونہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر آپ میں سے کوئی یہ سمجھے کہ یہ اِنتہائی مشکل کام ہے اور صِرف صحابیات کے ہی بس کا تھا،  اب کسی کے لیے اس طرح کے پردے کا اِہتِمام کرنا ممکن نہیں تو جان لیجئے کہ حقیقت میں ایسا نہیں،  کیونکہ تاریخ میں ایسی روشن ضمیر و باپردہ صالحات کا تذکرہ بھی ملتا ہے کہ جن کے دامَن کے دھاگے پر بھی کسی غیر محرم کی نِگاہ نہیں پڑی۔ چنانچہ،  

شیخ عَبْدُالحق مُحدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اَخبارُ الاَخیار میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ خُشک سالی ہوئی،  لوگوں نے بَہُت دُعائیں کیں مگر بارِش نہ ہوئی،  تو شیخ نظامُ الدِّین ابو المؤیّد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی والِدہ ماجِدہ کے پاکیزہ دامَن کا ایک دھاگا اپنے ہاتھ میں لیا اور بارگاہِ ربّ العزّت میں یوں عرض کی:اے اللہ! یہ اُس خاتون کے دامَن کا دھاگا ہے جس پر کبھی کسی نامحرم کی نظر نہ پڑی، مولا اِس کے طُفیل بارانِ رحمت  (یعنی رحمت کی بارش)  نازِل فرما۔مُحدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ ابھی شیخ نظامُ الدِّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالمَتِیننے یہ جُملہ کہا ہی تھا کہ چھما چھم بارِش برسنے لگی۔[2]

برستا نہیں دیکھ کر اَبْرِ رَحْمت

بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے[3]

دوسرا درجہ

پردے کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ اگر کسی مجبوری کے تحت گھر کی چار دیواری میں خود کو پابند نہ کر سکیں اور باہَر نکلنا پڑے تو خوب پردے کا اِہتِمام کر کے نکلیں تاکہ کوئی آپ کو پہچان نہ پائے، جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عطیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم نو عمر لڑکیوں،  حیض والیوں اور پردے والیوں کو حکم دیا کہ عیدَین پر  (نماز کے لیے) گھر سے نکلیں مگر حیض والیاں نماز میں شامِل نہ ہوں، بلکہ بھلائی کے کاموں اور مسلمانوں کی دُعا میں شریک ہوں۔ میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے بعض کے پاس تو



[1]     مدارج النبوت، قسم پنجم،  باب اوّل، ذکر وفات فاطمہ زہرا، الجزء الثانی، ص۴۶۱

[2]      اخبار الاخیار   ذکر بعضے از نسائے صالحات،بی بی سارہ،ص۲۹۴

[3]     حدائق بخشش، ص١٥٨

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن