30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھیں) انہوں نے اپنی اس اُلجھن کو حَل کرنے کے لیے طے کیا کہ اگرسرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کو پردہ کراتے ہیں تو سمجھو کہ زَوجِیَّت میں لیا ہے اور اگر حجاب (یعنی پردہ) نہ کرایا تو سمجھو کنیز بنایا ہے۔ جب قافلے نے کوچ کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے پیچھے حضرتِ سَیِّدَتُنا صَفِیّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی جگہ بنائی اور ان کے اور لوگوں کے درمِیان پردہ تان دیا۔[1]
پیاری پیاری اسلامی بہنو! پردہ و حِجاب کے کچھ دَرَجات ہیں۔ چنانچہ،
عورت خود کو گھر کی چار دِیواری اور پردے کا اس طرح پابند بنا لے کہ کسی غیر مرد کی نِگاہ اس پر نہ پڑے، یعنی کوئی غیر محرم اس کے جسم کو تو کجا اس کے لِباس تک کو نہ دیکھ پائے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ ٢٢، الاحزاب:٣٣)
ترجمۂ کنزُ الایمان:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہِلیَّت کی بے پردگی۔
اسی طرح ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:
وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ- ) پ٢٢، الاحزاب:٥٣)
ترجمۂ کنز ُالایمان:اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہَر سے مانگو۔
یہ آیتِ مُبارَکہ اگرچہ اُمَّہَاتُ الْمُومِنِین رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُنَّ کی شان میں نازِل ہوئی جیسا کہ اس کا شانِ نُزول بیان کرتے ہوئے اِمام بیضاوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ نبوّت میں عرض کی: یَا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کی خِدْمَت میں نیک بھی حاضِر ہوتے ہیں اور بد بھی، لہٰذا اُمَّہَاتُ المومنین کو پردے کا حکْم اِرشَاد فرمایئے۔ چنانچہ یہ آیتِ مُبارَکہ نازِل ہوئی۔[2]بَہَرحال سَبَب کچھ بھی ہو پردے کا حکْم نازِل ہونے کے بعد جن صحابیات طیبات رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُنَّ نے پردے کے اس پہلے دَرَجہ پر عَمَل کرتے ہوئے خود کو گھر کی چار دِیواری تک محدود کر لیا ان میں سے دو۲ کی مثالیں پیشِ خِدْمَت ہیں:
ایک بار اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا سَودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے عرض کی گئی: آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ باقی اَزواج کی طرح حج کرتی ہیں نہ عمرہ؟تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا:میں نے حج و عمرہ کر لیا ہے، چونکہ میرے ربّ نے مُجھے گھر میں رہنے کا حکْم فرمایا ہے۔ لہٰذا خدا کی قسم! اب میں پَیامِ اَجَل (موت) آنے تک گھر سے باہَر نہ نکلوں گی۔ راوی فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا گھر کے دروازے سے باہَر نہ نکلیں یہاں تک کہ آپ کا جنازہ ہی گھر سے نکالا گیا۔[3]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع