30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمایا: قٰصِرٰتُ الطَّرْفِۙ- (پ٢٧، الرحمٰن:٥٦) [1]اگر اس کی نِگاہ میں چند مرد آگئے تو یوں سمجھو کہ عورت اپنے جوہَر کھوچکی ، پھر اس کا دِل اپنے گھر بار میں نہ لگے گا جس سے یہ گھر آخر تباہ ہوجائے گا۔
کیا عورتوں کا گھروں میں رہنا ظلم ہے؟
بعض لوگ اِعْتِراض کرتے ہیں کہ عورتوں کا گھروں میں قید رکھنا ان پر ظلم ہے جب ہم باہَر کی ہوا کھاتے ہیں تو ان کو اس نعمت سے کیوں محروم رکھا جائے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ گھر عورت کیلئے قید خانہ نہیں بلکہ اس کا چَمَن ہے گھر کے کاروبار اور اپنے بال بچّوں کودیکھ کر وہ ایسی خوش رہتی ہیں جیسے چَمَن میں بُلبل۔ گھر میں رکھنا اس پر ظلم نہیں، بلکہ عزّت و عِصْمَت کی حِفَاظَت ہے اس کو قدرت نےاسی لیے بنایا ہے۔بکری اسی لیے ہے کہ رات کو گھر رکھی جائے اور شیر، چیتا اور مُحافِظ کتا اس لیے ہے کہ ان کو آزاد پھرایا جائے، اگر بکری کو آزاد کیا تو اس کی جان خطرے میں ہے اس کو شِکاری جانور پھاڑ ڈالیں گے۔[2]
پردہ و حجاب گویا اسلامی شعار ہے
پیاری اسلامی بہنو! پردہ و حِجاب گویا اِسلامی شعار کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اِسلام سے قبل عورت بے پردہ تھی اور اِسلام نے اسے پردہ و حِجاب کے زیور سے آراستہ کر کے عَظَمَت و کِردار کی بُلَندی عطا فرمائی ، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ ٢، الاحزاب:٣٣)
ترجمۂ کنزُ الایمان:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہِلیَّت کی بے پردگی۔
خَلیفۂ اعلیٰ حضرت صَدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی اس آیتِ مُبارَکہ کے تَحت تفسیر خزائن العرفان میں فرماتے ہیں:اگلی جاہِلیَّت سے مُراد قَبلِ اِسلام کا زمانہ ہے، اُس زمانہ میں عورَتیں اِتراتی نکلتی تھیں، اپنی زینت ومَحَاسِن (یعنی بناؤ سنگھار اور جسم کی خوبیاں مَثَلاً سینے کے اُبھار وغیرہ) کا اِظْہَار کرتی تھیں کہ غیر مَرد دیکھیں۔لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اَعضا اچھّی طرح نہ ڈھکیں۔[3] اَفسوس! مَوجُودہ دَور میں بھی زمانۂ جاہِلیَّت والی بے پردَگی پائی جارہی ہے۔ یقیناً جیسے اُس زمانہ میں پردہ ضَروری تھا وَیسا ہی اب بھی ہے۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اِسلام نے عورت کو پردے و حِجاب کی صُورَت میں جو عَظَمَت و سربُلَندی عطا کی، عہدِ رسالت کی بُلَند ہِمَّت عورتوں نے اسے اس قدر اپنایا کہ حِجاب آزاد مسلمان عورت کی عَلامَت بن گیا۔چنانچہ،
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ نبیِّ رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خیبر اور مدینہ منوَّرہ (زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً ) کے درمیان تین دن قِیام فرمایا، اسی دَوران حضرتِ سَیِّدَتُنا صَفِیّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو اپنے حَرَم میں داخِل فرمایا، پھر دَورانِ سفر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی دعوتِ ولیمہ کی۔ اس میں روٹی اور گوشت کا اِہتِمام نہ تھا بلکہ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکْم دیا اور اُس پر کھجوریں، پنیر اور گھی رکھا گیا۔یہی سب کچھ ولیمہ تھا، لیکن تا حال صَحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر یہ واضِح نہ ہوا تھا کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی زَوجِیَّت میں لیا ہے یا کہ کنیز بنایاہے (کیونکہ یہ خیبر کی جنگی قیدیوں میں شامِل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع