30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتی ہے تو شیطان لوگوں کی نگاہ میں اسے بھلی کر دیتا ہے کہ وہ خواہ مخواہ اسے تکتے ہیں، مِثل مشہور ہے کہ پَرائی عورت اور اپنی اولاد اچھی معلوم ہوتی ہے اور پَرایا مال اور اپنی عقل زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ [1]
پیاری پیاری اسلامی بہنو!پردے کا حکْم کب نازِل ہوا؟ اس کے مُتَعَلِّق شیخِ کبیر، علّامہ شہیر حضرت سَیِّدُنا مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اپنی کتاب سیرت سید الانبیا میں فرماتے ہیں: اِسی سال (یعنی 4ہجری) ذی قعدہ کے مہینہ میں اُمُّ المومنین حضرت زینب بنت جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی کاشانَۂ نبوّت میں رُخصتی کے دن مسلمان عورتوں کے لیے پردہ کا حکْم نازِل ہوا۔ بعض عُلَمائے کِرام کا کہنا ہے کہ یہ حکْم 2ہجری کو نازِل ہوا، (مگر ) قولِ اوّل (یعنی پہلا قول ہی) راجِح ہے۔[2] اسی طرح حضرت سَیِّدُنا امام ابن حَجَر عَسْقَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی بھی فتح الباری میں اس حکْم کے نازِل ہونے کے مُتَعَلّق چند اَقوال ذکر کر کے ایک قول کو ترجیح دیتے ہوئے اِرشَاد فرماتے ہیں:ان تمام اَقوال میں سب سے زیادہ مشہور قول یہی ہے کہ پردے کا حکْم 4 ہجری میں نازِل ہوا۔ 3
پردہ صرف عورتوں کے لیے ہی کیوں؟
پیاری پیاری اسلامی بہنو!سوال پیدا ہوتا ہے کہ صِرف عورتوں کو ہی پردے و حِجاب کا حکْم کیوں دیا گیا۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 170 صَفحات پر مشتمل کتاب اسلامی زندگی صَفْحَہ 105پر عورتوں کے پردہ کرنے کے پانچ۵اَسباب کچھ یوں تحریر ہیں:
)1(…عورت گھر کی دولت ہے اور دولت کو چھپا کر گھر میں رکھا جاتا ہے، ہر ایک کودِکھانے سے خطرہ ہے کہ کوئی چوری کرلے۔اسی طرح عورت کو چھپانا اور غیروں کو نہ دِکھانا ضَروری ہے۔
(2) …عورت گھر میں ایسی ہے جیسے چَمَن میں پھول اور پھول چَمَن میں ہی ہَرا بھرا رہتا ہے، اگر توڑ کر باہَر لایا گیا تو مُرجھا جائے گا۔اسی طرح عورت کا چَمَن اس کا گھر اور اسکے بال بچے ہیں، اس کو بلاوجہ باہَر نہ لاؤ ورنہ مُرجھا جائے گی۔عورت کا دِل نِہَایَت نازُک ہے، بَہُت جلد ہر طرح کا اَثَر قبول کرلیتا ہے، اس لیے اس کو کچی شیشیاں فرمایا گیا۔
(3) …ہمارے یہاں بھی عورت کو صِنْفِ نازُک کہتے ہیں اور نازُک چیز وں کو پتھروں سے دُور رکھتے ہیں کہ ٹوٹ نہ جائیں۔غیروں کی نگاہیں اس کے لیے مضبوط پتھر ہیں، اس لیے اس کو غیروں سے بچاؤ۔
(4) …عورت اپنے شوہر اور اپنے باپ دادا بلکہ سارے خاندان کی عزّت اور آبرو ہے اور اس کی مِثال سفید کپڑے کی سی ہے، سفید کپڑے پر معمولی سا داغ دھبہ دور سے چمکتا ہے اور غیروں کی نگاہیں اس کے لیے ایک بدنُما داغ ہیں، اس لیے اس کو ان دھبوں سے دُور رکھو۔
(5) …عورت کی سب سے بڑی تعریف یہ ہے کہ اس کی نِگاہ اپنے شوہر کے سِوا کسی پر نہ ہو، اس لیے قرآنِ کریم نے حُوروں کی تعریف میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع