30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لئے بھی نہیں جاسکتی اگر گئی تو گناہ گار ہوگی اگرچہ فَرْض حج ادا ہوجائے گا۔[1]جیسا کہ بہارِ شَریعَت میں ہے کہ عورت کو بغیر مَحْرَم کے تین دن یا زیادہ کی راہ جانا، ناجائز ہے بلکہ ایک دِن کی راہ جانا بھی۔نابالغ بچہ یا مَعْتُوہ (کم عَقْل) کے ساتھ بھی سَفَر نہیں کرسکتی، ہمراہی میں بالغ مَحْرَم یا شوہر کا ہونا ضَروری ہے۔محْرَم کے لیے ضَرور ہے کہ سَخْت فاسِق بے باک غیر مَامُون نہ ہو۔[2]
پیاری پیاری اسلامی بہنو!حِجاب عربی زبان کے لفظ حَجْبٌ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے کسی کو کسی شے تک رسائی حاصِل کرنے سے روکنا اورحِجاب کے مُتَعَلِّق علّامہ شریف جُرجانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی کتاب التعریفات میں فرماتے ہیں کہ حِجاب سے مُراد ہر وہ شے ہے جو آپ سے آپ کا مقصود چھپا دے۔ [3] یعنی آپ ایک شے کو دیکھنا چاہیں مگر وہ شے کسی آڑ یا پردے میں ہو تو اس آڑ یا پردے کو حِجاب کہتے ہیں۔حِجاب کا یہ مفہوم قرآنِ کریم میں کئی مَقامات پر مذکور ہے، جیسا کہ پارہ 23 سورہ ص کی آیت نمبر 32 میں اِرشَادہوتا ہے:
حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ (۳۲)
ترجمۂ کنزُ الایمان:یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چُھپ گئے۔
نیز عورتوں کے حِجاب سے کیا مُراد ہے اس کے مُتَعَلِّق حضرت سَیِّدُنا امام ابن حَجَر عَسْقَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں:عورتوں کے حِجاب سے مُراد یہ ہے (یعنی وہ اس طرح پردہ کریں) کہ مَرد انہیں کسی طرح دیکھ نہ سکیں۔ [4]
پیاری پیاری اسلامی بہنو! عورت کا مَطلب ہے: مَایُعَارُ فیِ اِظْهَارِہٖ۔یعنی (جسم کا وہ حصّہ) جس کا ظاہِر ہونا قابلِ عار و شَرْم ہو ۔[5]ایک رِوایَت میں ہے:اَلْـمَرْأَةُعَوْرَةٌ۔ عورت عورت ہے۔[6] مطلب یہ ہے کہ عورت مردِاجنبی کیلئے سر سے پاؤں تک لائقِ پردہ (یعنی چھپانے کی چیز) ہے[7]اور چھپایا اسی چیز کو جاتا ہے جس کو غیر کی نظروں سے بچانا مقصود ہوتا ہے اور غیر سے مُراد کون ہے؟ اس کے مُتَعَلِّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا ہے:عورت پردے میں رہنے کی چیز ہے، فَاِذَا خَرَجَتْ اِسْتَشْرَفَھَا الشَّیْطَانُ۔یعنی جب وہ باہَر نکلتی ہے تو شیطان اُسے نِگاہ اٹھا اٹھا کر دیکھتا ہے۔[8]
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اِسْتِشْرَاف کے معنیٰ ہیں”کسی چیز کو بغور دیکھنا“ یا اس کے معنیٰ ہیں”لوگوں کی نگاہ میں اچھا کر دینا تاکہ لوگ اسے بغور دیکھیں“یعنی عورت جب بے پردہ
[1] پردے کے بارے میں سوال جواب، ص ۱۶۵
[2] بہارِ شریعت، نماز مسافر کا بیان، ۱ / ۷۵۲
[3] کتاب التعریفات، حرف الحاء، ص ١٤٥
[4] فتح الباری، کتاب التفسیر، باب قوله (وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ)، ٨ / ٥٨١، تحت الحدیث: ٤٧٥٠
[5] مراٰۃ المناجیح ،پردے کے احکام،دوسری فصل، ۵ / ۱۶
[6] ترمذی،کتاب الرضاع،١٨-باب، ص٣٠٤، حدیث: ١١٧٣
[7] مراٰۃ المناجیح ،پردے کے احکام،پہلی فصل، ۵ / ۱۳
[8] ترمذی،کتاب الرضاع،١٨-باب، ص٣٠٤، حدیث: ١١٧٣
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع