دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabiyat aur Parda | صحابیات اور پردہ

book_icon
صحابیات اور پردہ

آخر جب میں مدینہ پہنچی تو سب سے پہلے اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا  اُمِّ سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے کاشانَۂ اَقْدَس پر حاضِر ہوئی۔ میں اس وَقْت بھی نِقاب میں تھی جس کی وجہ سے سیّدہ اُمِّ سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے مجھے نہ پہچانا،  لہٰذا میں نے چہرے سے نِقاب ہٹا کر انہیں اپنا تعارُف کروایا اور جب بتایا کہ میں نے تنہا ہجرت کی ہے تو وہ دنگ رہ گئیں اور حیرت سے پوچھنے لگیں کہ کیا واقعی!تم نے تنہا اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کی خاطِر ہجرت کی ہے؟میں نے اِقرار کیا، ابھی ہم باتیں ہی کر رہی تھیں کہ رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی تشریف لے آئے اور تمام صورت ِحال جان کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اھلاً و سہلاً کے دل آویز اَلفاظ سے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے اس طرح اِسلام کی خاطِر ہجرت کرنے کو سراہا۔ [1]

حالتِ سفر میں پردہ

پیاری پیاری اسلامی بہنو! سرورِ کائنات ،  فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مکہ مکرمہ سے مدینہ شریف ہجرت فرمانے کے بعد جو عُشاقِ رسول کسی وجہ سے ہجرت نہ کر سکے وہ دیدارِ رسول سے محروم ہونے کی وجہ سے ہر دَم بے چَین رہتے اور جب بھی ان میں سے کسی کو موقع میسر آتا وہ سُوئے حبیب رَوانہ ہو جاتا۔ عشقِ سرکار میں تڑپنے والے ان لوگوں میں سے ایک یہ باپردہ صحابیہ بھی تھیں جو کہ شرم و حیا کے پیکر حضرت سَیِّدُنا عثمان بن عَفّان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ماں جائی بہن حضرت سَیِّدَتُنا  اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا تھیں۔

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اس قدر طویل سفر میں جس طرح شرم و حَیا کی لاج رکھی اور پردے کا اِہتِمام کیا وہ آپ ہی کا خاصہ تھا اور اس کا اِنعام بارگاہِ نبوّت سے یہ ملا کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نہ صِرف خوشی کا اِظْہَار فرمایا بلکہ اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت سَیِّدُنا زید بن حارِثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ان کی شادی خانہ آبادی فرما کر انہیں اپنی اَمان عطا فرمائی۔

پیاری پیاری اسلامی بہنو!آئیے! مل کر عہد کرتی ہیں کہ سفر میں ہوں یا حضر میں،  ہمیشہ پردے کا اِہتِمام کریں گی تاکہ ہمیں بھی سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا اور اَمان نصیب ہو۔  

کیا عورت کا تنہا سفر کرنا جائز ہے؟

پیاری پیاری اسلامی بہنو!حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے مکہ مکرمہ سے مدینہ مُنَوَّرہ کی طرف ہجرت کا جو سَفَر تنہا اور بغیر مَحْرَم کے کیا تھا وہ شَریعَت کے عین مُطابِق تھا،  جیسا کہ مُفَسِّرِ شَہِیر،  حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:  (شرعی سَفَر کی مِقْدَار عورت کے تنہا سَفَر کرنے کی) مُمانَعَت کے حکْم سے مُہاجِرہ اور کفّار کی قید سے چھوٹنے والی عورت خارِج ہے کہ یہ دونوں عورتیں بغیر مَحْرَم اکیلی ہی دارُ السَّلام کی طرف سَفَر کر سکتی ہیں بلکہ یہ سَفَر ان پر واجِب ہے۔[2] لہٰذا اس واقعہ سے کوئی اِسْلاَمی بہن یہ نہ سمجھ لے کہ اکیلی عورت کا اس قَدْر دور دراز کا سَفَر کرنا جائز ہے، کیونکہ بغیر شوہر یا مَحْرَم کے عورت کاتین دن کی مَسَافَت پر واقِع کسی جگہ جانا حَرام ہے۔یہاں تک کہ اگر عورت کے پاس سَفَرِ حج کے اَسْبَاب ہیں مگر شوہر یا کوئی قَابِلِ اطمینان مَحْرَم ساتھ نہیں تو حج کے



[1]     صفةالصفوة ،ذكر المصطفيات من طبقات الصحابيات،ام کلثوم بنت عقبه بن ابی معیط، المجلد الاول، ٢ /  ٣٩

[2]     مراٰۃ المناجیح ،حج کا بیان،پہلی فصل، ۴ / ۹۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن