30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنی مُمانی، چچی، تائی، بھابھی اور اپنی زوجہ کی بہن وغیرہ رشتے داروں سے پردہ ہے۔ مُنہ بولے بھائی بہن، منہ بولے ماں بیٹے اورمنہ بولے باپ بیٹی میں بھی پردہ ہے حتّٰی کہ لے پالک بچہ (جب مرد و عورت کے مُعامَلات سمجھنے لگے تو) اس سے بھی پردہ ہے البتّہ دودھ کے رشتوں میں پردہ نہیں مَثَلاً رَضاعی ماں بیٹے اور رَضاعی بھائی بہن میں پردہ نہیں۔[1]
٭…اگر ایک گھر میں رَہتے ہوئے عورت کیلئے قریبی نامَحرم رشتہ داروں سے پردہ دشوارہو تو چہرہ کھولنے کی تو اجازت ہے مگر کپڑے ہرگز ایسے باریک نہ ہوں جن سے بدن یا سر کے بال وغیرہ چمکیں یاایسے چُست نہ ہوں کہ بدن کے اعضا جسم کی ہیئت (یعنی صورت و گولائی) اور سینے کا اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو۔[2]
٭…مسلمان عورت کاکافِرہ سے اُسی طرح پردہ ہے جس طرح اجنبی مرد سے۔ کافِر ہ کے لئے عورت کے بدن کے وہ تمام حصّے سِتْر ہیں جو کہ ایک اجنبی مرد کے لئے ہیں۔[3]
٭…افسوس! آج کل ’’خود کُشی ‘‘کچھ زیادہ ہی عام ہو گئی ہے، اس کا ایک بَہُت بڑا سَبَب عِلْمِ دین سے دُوری ہے، داڑھی مُنڈوں، یا جذباتی ماڈَرن بے رِیش لڑکوں، اسکول و کالج کے طالِب علموں، دُنیوی تعلیم یافتوں یا بے پردہ و فیشن ایبل عورَتوں میں ہی خود کُشی کا مَیلان دیکھا جا رہا ہے۔آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گاکہ فُلاں دینی طالِبِ عِلم یا عالِمِ دین یا مفتی صاحِب یا شریعت کی پابند پردہ نشین نیک بی بی نے خود کُشی کر لی۔[4]
٭…پردہ کرنے میں جتنی تکلیف زِیادہ ہو گی اُتنا ہی ثواب بھی اِنْ شَآءَ اللہ زیادہ ملے گا۔[5]
٭…باحیااسلامی بہنیں اپنے گھروں کے اندرپردہ نشین ہوتی ہیں کیونکہ گلیوں، بازاروں میں بے پردہ پھرنابے حَیاعورَتوں کاکام ہے۔[6]
٭…شاپنگ سینٹروں میں آج کل اکثر بے حیائی سے لبریز گناہوں بھرا ماحو ل ہوتاہے اور عورت صِنْفِ نازُک ہے اسے وہاں سے دُور رہنے ہی میں عافیّت ہے۔[7]
٭…چَراغاں دیکھنے کیلئے عورتوں کااَجنبی مردوں میں بے پردہ نکلنا حرام و شَرمناک نیز باپردہ عورتوں کا بھی مُروَّجہ انداز میں مَردوں میں اختِلاط (یعنی خَلط مَلط ہونا) انتِہائی افسوس ناک ہے۔[8]
٭…اسلامی بہنوں سے مَدَنی التجا ہے کہ کسی کو بھی ڈھیلا ڈھالا بھدّے رنگ کا بالکل بے کشَش خیمہ نُما حقیقی مَدَنی بُرقَع پہننے پر مجبور نہ کریں کہ کئی گھروں میں سختیاں بَہُت زیادہ ہیں، شریعت و سنّت کے احکامات پر عمل کرنے والوں اور والیوں کے ساتھ آج کل مُعاشَرے میں اکثر بے حد ناروا سُلوک کیا جاتا ہے۔[9]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع