30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرد نہ رہتا تھا جس سے پردہ ہو۔[1]
اسی حدیث کی شرح میں مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ ثابِت نہیں ہوتا کہ وہ حضرات اپنے مدینہ والے (یعنی اپنے شہر کے ) مردوں سے پردہ نہ کرتی تھیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا، پردہ ہر اس مرد سے واجِب ہے جس سے نِکاح دُرُسْت ہو، خواہ مدینہ (یعنی اپنے شہر یا گاؤں) کا ہو یا باہَر کا۔[2]
جہانِ فانی سے کوچ کر جانے والوں سے پردہ
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ہائے افسوس! ایک ہم ہیں کہ آج کے اس پُر فِتَن اور نفسانفسی کے دَور میں جہاں ہر طرف عزتوں کے سوداگر موجود ہیں ہم سے زندہ وغیرمحرم مَردوں سے پردے کا کما حقہ اِہتِمام ممکن نہیں رہا اور ایک صحابیات طیبات تھیں جنہوں نے عزّتوں کے مُحافِظوں کی مَوجُودَگی میں زندہ لوگ تو ایک طرف جہانِ فانی سے کوچ کر جانے والوں سے بھی پردے کا اِہتِمام کر کے تاریخ کے سنہری اَورَاق میں رنگ بھر دئیے ۔ چنانچہ،
اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتی ہیں:جب میں اپنے اس گھر میں داخِل ہوتی جس میںرسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور میرے والِد مدفون ہیں تو اس خیال سے اپنی اوڑھنی نہ لیتی کہ یہاں تو میرے شوہر اور والِد ہیں، مگر جب سے عُمَر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں دفن ہوئے تو خُدا کی قسم! میں ان سے شَرْم کے باعِث با پردہ حاضِر ہوتی ہوں۔[3]
حکیم ُالاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان مِراٰۃُ المناجیح جلد 2 صَفْحہ 527 پر اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی جب تک میرے حُجرے میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اور حضرت ابوبکر صِدِّیق (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) مدفون رہے تب تک تو میں سَر کھولے یا ڈھکے ہر طرح حُجرے شریف میں چلی جاتی تھی کیونکہ نہ خاوند سے حِجاب ہوتا ہے نہ والِد سے، (مگر) جب سے حضرتِ عُمَر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) میرے حُجرے میں دَفن ہو گئے تب سے میں بغیر چادر اَوڑھے اور پردہ کا پورا اِہتِمام کئے بغیر حجرے شریف میں نہ گئی کہ حضرتِ عُمَر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے شَرْم و حَیا کرتی ہوں۔
اس حدیث سے بَہُت مسائل مَعلوم ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ مَیّت کا بعدِ وفات بھی اِحْتِرام چاہئے۔ فقہا فرماتے ہیں کہ مَیّت کا ایسا ہی اِحْتِرام کرے جیسا کہ اس کی زِنْدَگی میں کرتا تھا۔ دُوسرے یہ کہ بزرگوں کی قُبور کا بھی اِحْتِرام اور ان سے بھی شَرْم و حَیا چاہئے۔ تیسرے یہ کہ مَیّت قبر کے اندر سے باہَر والوں کو دیکھتا اور انہیں جانتا پہچانتا ہے۔ دیکھو! حضرتِ عُمَر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا) ان کی وفات کے بعد شرم و حَیا فرما رہی ہیں اور اگر آپ باہَر کی کوئی چیز نہ دیکھتے تو اس حَیا فرمانے کے کیا معنیٰ۔ چوتھے یہ کہ قبر کی مٹّی، تختے وغیرہ تو مَیّت کی آنکھوں کے لیے حِجاب نہیں بن سکتے مگر زائر (یعنی زِیارَت کرنے والا) کے جسم کا لباس ان کے لیے آڑ ہے، لہٰذا مَیّت کو زائر (زیارت کرنے والا) ننگا نہیں دکھائی دیتا ورنہ حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع