30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوچُھپائے؟چنانچہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ طریقت، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 400
صَفحات پر مشتمل کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب صَفْحَہ50پر فرماتے ہیں:گھر میں رَہتے ہوئے بھی بِالخصوص دَیْوَر وجیٹھ وغیرہ کے مُعامَلہ میں مُحتاط رَہنا ہوگا۔ صحیح بخاری میں حضرت سیّدُنا عُقْبہ بن عامِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے، پیکرِ شرم وحیا، مکّی مَدَنی مصطَفٰے، محبوبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: عورَتو ں کے پاس جانے سے بچو۔ایک شخص نے عرض کی:یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!د َیوَرکے مُتَعَلِّق کیا حکْم ہے؟ فرمایا : دَیوَر موت ہے۔[1] دَیوَر کا اپنی بھابھی کے سامنے ہونا گویا موت کا سامنا ہے کہ یہاں فِتنہ کا اندیشہ زِیادہ ہے۔ مفتیِ اعظم پاکستان حضرتِ وقارِ مِلّت مولانا وقارُ الدّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِین فرماتے ہیں:ان رشتہ داروں سے جو نامَحرم ہیں (پردہ بہت دشوار ہو تو ان سے) چہرہ، ہتھیلی، گٹے، قدم اورٹَخنوں کے علاوہ سِتْر ( پردہ ) کرنا ضَروری ہے ، زینت بناؤ سنگھار بھی ان کے سامنے ظاہِر نہ کیا جائے ۔ [2] بَہَرحال اگر ایک گھر میں رَہتے ہوئے عورت کیلئے قریبی نامَحرم رشتہ داروں سے پردہ دُشْوَارہو تو چہرہ کھولنے کی تو اِجازَت ہے مگر کپڑے ہرگز ایسے باریک نہ ہوں جن سے بدن یا سر کے بال وغیرہ چمکیں یا ایسے چُست نہ ہوں کہ بَدَن کے اَعضا جسم کی ہیئت (ہَے اَت، یعنی صورت و گولائی) اور سینے کا اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو ۔[3]
آج کل پردہ کرنے والیوں کا مُلانی کہہ کر گھر میں مذاق اُڑایا جاتا ہے، کبھی (کوئی اسلامی بہن ) عورَتوں کی کسی تقریب میں مَدَنی بُرقع اوڑھ کر چلی جائے تو!!! ٭… کوئی کہتی ہے: ارے ! یہ کیا اَوڑھ رکھا ہے اُتارواِس کو! ٭…کوئی بولتی ہے: بس ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ تم بَہُت پردہ دار ہو اب چھوڑو بھی یہ پردہ وَردہ! ٭…کوئی کہتی ہے، دنیابَہُت ترقّی کر چکی ہے اور تم نے یہ کیا دَقْیا نُوسی انداز اپنا رکھا ہے! وغیرہ ۔ اِس طرح کی دل دُکھانے والی باتوں سے شَرعی پردہ کرنے والی کا دل ٹوٹ پھوٹ کر چِکناچُور ہو جاتا ہے۔ اگرچہ واقعی یہ حالات نہایت ہی نازُک ہیں اور شَرعی پردہ کرنے والی اسلامی بہن سخت آزمائش میں مبتَلا رَہتی ہے مگر اسے ہمّت نہیں ہارنی چاہیے۔ مذاق اُڑانے یا اِعتِراض کرنے والیوں سے زور دار بحث شُروع کر دینا یا غصّے میں آ کر لڑ پڑنا سخت نقصان دِہ ہے کہ اس طرح مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید اُلَجھ سکتا ہے۔
ایسے مَوقَع پر یہ یاد کر کے اپنے دل کو تسلّی دینی چاہیے کہ جب تک تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عام اِعلانِ نبوّت نہیں فرمایا تھا اُس وَقت تک کُفّارِ بد انجام آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِحتِرام کی نظر سے دیکھتے تھے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو امین اور صادِق کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جُونہی علَی الْاِعلان اِسلام کا ڈنکا بجانا شروع کیا وُہی کُفّارِ بداَطوار طرح طرح سے ستانے، مذاق اُڑانے اور گالیاں سنانے لگے، صِرف یہی نہیں بلکہ جان کے در پے ہو گئے، مگر قربان جائیے ! سرکارِ نامدار ، اُمّت کے غم خوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کہ آپ نے بِالکل ہمّت نہ ہاری ، ہمیشہ صَبْر ہی سے کام لیا ۔اب اسلامی بہن صَبْرکرتے ہوئے غور کرے کہ میں جب تک فیشن ایبل اور بے پردہ تھی میرا کوئی مذاق نہیں اُڑاتا تھا، جُونہی میں نے شَرعی پردہ اپنایا، ستائی جانے لگی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے کہ مجھ سے ظُلْم پر صَبْر کرنے کی سنّت اَدا ہو رہی ہے ۔مَدَنی اِلتجا ہے کہ کیسا ہی صَدمہ پہنچے صَبْر کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع