30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!حضرت علامہ عبد المصطفےٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی مزید فرماتے ہیں کہ یاد رکھئے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کیلئےاس خیر خواہی کرنے کا نَفْع و فائدہ درحقیقت بندے ہی کو ملے گا۔ کیونکہ خدا کے لیے یہ خیر خواہی کر کے حقیقت میں بندہ اپنے ہی لیے خیر خواہی کرتا ہے ، ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی خیر خواہی سے غنی و مُسْتَغْنِی اور بے نیاز ہے۔جیسا کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنے اس فرمان کا اِعلان فرمایا ہے کہ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(۹۷) (پ۴، آل عمران: ۹۷)یعنی اللہ تعالیٰ تمام جَہان والوں سے بے نیاز ہے۔
اَلـنَّصِيْحَةُ لِكِتَابِ اللہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کِتاب کے ساتھ خَیر خواہی کا مَطْلَب یہ ہے کہ ٭…بندہ قرآنِ مجید پر یہ اِیمان لائے کہ وہ اللہ کا کلام اور اسی کی طرف سے نازِل شدہ ہے۔٭… مَـخْلُوق کے کلام سے کچھ بھی اسکے مُشابِہ نہیں بلکہ یہ اِعْتِقَاد رکھے کہ مَـخْلُوق میں کو ئی اس کی مِثل و نظیر لانے پر قادِر نہیں۔٭…پھر اسی عقیدہ کے ساتھ اس کِتاب کی تعظیم و تکریم کرے اور ایسی تِلاوَت کرے جیسے تِلاوَت کا حَق ہے یعنی نِہَایَت اَحْسَن اَنداز اور خُشُوع و خُضُوع اور اِخْلَاص کے ساتھ تِلاوَت کرے اور تجوید وقرأت کا خَیال رکھے۔٭…اس کے اَوَامِر و نَوَاہِی پر صِدْقِ دِل سے اِیمان لا کر اس پر عَمَل کرے اور اس کی تعلیم وتعلّم کی طَاقَت بھر کوشِش کرتا رہے۔ ٭…جو کچھ اس میں ہے اسکی تصدیق کرے۔٭… اسکے عُلُوم اور مِثالوں کی سمجھ حاصِل کرے۔٭…اسکے مَواعِظ پر اِعْتِبَار اور عجائبات میں غور و فِکْر کرے۔٭…اس کے عُلُوم کی تبلیغ و اِشَاعَت کرے اور لوگوں کو قرآنی اَحْکام اور قرآن میں مَوجُود خیر خواہی پر دَلَالَت کرنے والی جملہ باتوں پر عَمَل کرنے کی ترغیب دلائے۔
اَلـنَّصِيْحَةُ لِـرَسُولِ اللہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے خَیر خواہی و نصیحت کا مَفہوم یہ ہے کہ ٭…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خَاتَمُ النَّبِیِّیْن مان کر ان کی رِسالت کی تصدیق کرے۔٭…جو کچھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لائے ہیں دل سے اس کی تصدیق اور زبان سے اس کا اِقرار و اِعلان کرے۔ ٭…آپ کے تمام اَحْکامات یعنی اَمْر و نَہی کی اِطَاعَت و فرمانبرداری کرے۔
٭…آپ کے دین کی مَدَد کرے۔٭…آپ کی تعظیم و توقیر کرے اور اپنی جان سے بڑھ کر آپ سے مَحبَّت کرے۔٭…آپ کی سنّتوں پر خود عَمَل کر کے آپ کی دَعْوَت و شَریعَت کی ایک ایک بات آپ کی ذات و صِفات، آپ کی صُورَت و سِیْرَت، آپ کے اَصْحَاب، آپ کی اَزواج و اَولاد بلکہ ہر اس چیز سے مَحبَّت و اُلفت رکھے جس کا خدا کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تعلّق ہو۔ ٭…ان کے دشمنوں سے دشمنی اور ان کے دوستوں کو دوست رکھے۔ ٭… بد مذہبوں سے بچے۔٭…آپ کی عزت و عَظَمَت کیلئے اپنی جان، اپنا مال، اپنی آل واولاد کو آپ پر قربان کر دینے کا جذبہ رکھے۔
اَلـنَّصِيْحَةُ لِاَئِمَّةِ الْـمُسْلِمِیْن
اَئِمَّہ دین کے ساتھ نصیحت و خَیر خواہی یہ ہےکہ مسلمانوں کا اَمیرُالْمومنین جب تک حَق پر قائم رہے اور وہ ان کو اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطَاعَت کا حکْم دیتا رہے تمام مسلمانوں پر لازِم ہے کہ ٭…اس اَمیرُ الْمومنین کی بَـیْعَت پر قائم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع