30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:
دین نصیحت ہے۔ صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عَرْض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کس کیلئے؟ اِرشَادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کیلئے، اس کی کِتاب کیلئے، اس کے رَسول کیلئے، مسلمان اَئِمّہ کیلئے اور عام مسلمانوں کیلئے۔[1]
شیخ الحدیث حضرت علّامہ مولانا عبد المصطفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی جواہر الحدیث میں اس حدیثِ پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حدیث میں نَصِیْحَة کو دین فرمایا گیا۔ اس کا مَطْلَب یہ ہے کہ نصیحت دین کی ایک بَہُت ہی بڑی اور نِہَایَت ہی عظیم خَصْلَت ہے، گویا کہ یہ دین کا دار و مَدار ہے اور دین کی عِمارَت کا ایک مَضْبُوط و مُسْتَحْکَم سُتُون ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں یہ اِرشَاد فرمایا گیا کہ اَلْـحَجُّ عَرَفَة۔ یعنی حج عَرَفَہ ہے۔تو اس کا مَطْلَب یہی ہے کہ یوں تو اَفعال واَرکانِ حج چند چیزیں ہیں مگر حج کا اِنْتِہائی اَہَم رُکْن ذُو الحجہ کی نوتاریخ کو میدانِ عَرَفات میں وُقُوف کرنا (ٹھہرنا)ہے۔ اس طرح اس حدیث کا مَطْلَب بھی یہی ہے کہ یوں تو دین کے خَصَائِل بَہُت زیادہ ہیں مگر دین کی تمام خصلتوں میں نصیحت ایک بَہُت ہی عظیم الشان اور نِہَایَت ہی اَہَمِیَّت والی خَصْلَت ہے بلکہ درحقیقت یہ ایسی شاندار خَصْلَت ہے جو دین کی بَہُت سی خصلتوں کی نہ صِرف جامِع ہے بلکہ اکثر خَصَائِلِ اِسلام کا دارومدار بھی اس پر ہے۔ چنانچہ صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے نصیحت کی اس اَہَمِیَّت کو سن کر دربارِ رِسَالَت میں عَرْض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کس کیلئے خیر خواہی کرنا دین کی ایک اَہَم اور اَعْظَم خَصْلَت ہے؟ توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:پانچ کیلئے: (1)…اللہ تعالٰی کیلئے (2) …اس کی کتاب کیلئے (3) …اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیلئے(4) …مسلمانوں کے اِماموں کیلئے(5) …عام مسلمانوں کیلئے۔
اب ہر ایک کے لیے خیر خواہی کی الگ الگ تفصیل مُلاحظہ فرمائیے کہ ان میں سے ہر ایک کے لیے خیرخواہی کس کس طرح ہوگی؟ چنانچہ اِمام مُحْیُ الدِّین ابو زکریا یحییٰ بن شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے نصیحت کا مَطْلَب یہ ہے کہ ٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات وصِفات پر اِیمان لائیں۔٭…اس کی توحید پر صِدْقِ دِل سے اِیمان لا کر زبان سے اِقرار و اِعلان کریں۔٭…اس کی ذات و صِفات میں شِرک و اِلحاد سے برأت و بیزاری کا اِظہار کریں۔٭…اسکی اِطَاعَت و فرماں برداری پر کَمَر بَسْتَہ ہو کر اسکی معصیتوں سے اِحْتِراز و اِجْتِنَاب کریں۔ ٭…اسکے مُـحِبّین سے مَحبَّت، اسکے دشمنوں سے بُغْض و نَفْرَت اور اس کی وَحْدَانِیَّت کے مُنکِروں سے جِہاد کریں۔
٭… اس کی دی ہوئی نعمتوں کا اِعْتِرَاف کر کے اپنے دِل، اپنی زبان اور اپنے اَعْضَا سے اس کا شُکْر بجا لائیں۔٭…تمام عِبادات اِخْلَاص کے ساتھ ادا کریں۔ ٭…اسکی بھیجی ہوئی مصیبتوں پر صَبْر کر کے اس کی حَمد کریں۔ ٭…نیز خود عَمَل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی مذکورہ تمام اَوصَاف کی دَعْوَت دیں اور انہیں بجا لانے کی ترغیب دِلائیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع