30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!وَعْظ ونصیحت کے بے شُمار و بے حِساب فوائد و ثَمَرات کی بنا پر اس کی اَہَمِیَّت واِفَادِیَت سے اِنکار مُمکِن نہیں، کیونکہ وَعْظ ونصیحت حضراتِ اَنبیائے کِرام و مُرْسَلِینِ عُظَّام عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عظیم سنّت ہے۔جیسا کہ قرآنِ کریم کی کئی آیاتِ مُبارَکہ اس پر واضِح دلیل ہیں۔ چنانچہ ذیل میں چند آیاتِ مُبارَکہ پیشِ خِدْمَت ہیں:
(1)حضرت سَیِّدُنا نُوح عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنی قوم سے فرمان ان اَلفاظ میں مَذْکُور ہے:
اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۲) (پ۸، الاعراف:۶۲)
ترجمۂ کنز الایمان:تمہیں اپنے رب کی رِسالتیں پہنچاتا اور تمہارا بھلا چاہتا اور میں اللہ کی طرف سے وہ عِلْم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے۔
(2)حضرت سَیِّدُنا ہود عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا:
اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ(۶۸) (پ۸، الاعراف:۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان:تمہیں اپنے رب کی رِسالتیں پہنچاتا ہوں اور تمہارا مُعْتَمَد خیر خواہ ہوں۔
(3)حضرت سَیِّدُنا صَالِح عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا:
وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ(۷۹)(پ۸، الاعراف:۷۹)
ترجمۂ کنزالایمان:اور کہا اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رِسَالَت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خَیر خواہوں کے غرضی (پسند کرنے والے)ہی نہیں۔
(4)اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے مَحْبُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حکْم اِرشَاد فرمایا:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(۱۲۵) (پ۱۴، النحل:۱۲۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اَچھّی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پربحث کرو جوسب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! سَرْوَرِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکْمِ باری تعالیٰ پر عَمَل کرتے ہوئے وَعْظ و نصیحت کو کمال کی بُلَندیوں پر پہنچا دیا۔ جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 649 صَفحات پر مُشْتَمِل کِتاب حکایتیں اورنصیحتیں صَفْحَہ 4پر ہے:حُضُور نبی کریم، رؤوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وَعْظ ونصیحت کا اَنداز اِنْتِہائی دِل نَشِین ہوا کرتا۔کبھی خوفِ خُدا کا بیان ہوتا تو کبھی رَحْمَتِ اِلٰہی کی بَشَارَتیں، کبھی جنّت کی خوش خبریاں سناتے تو کبھی دوزخ سے ڈراتے اور کبھی سابقہ اُمَّتوں کے حالات سے آگاہ فرماتے تو کبھی آنے والے فتنوں کی خَبَر اِرشَاد فرماتے۔ اَلْغَرَضْ کلام حاضِرین کی حَالَت اور وَقْت کے تقاضے کے عَین مُطابِق ہوتا ۔ چنانچہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع