30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنّت میں داخِل ہو۔[1]
(3…)اُن کا شَریعَت کے مُطابِق ملنے والا ہر حکْم خواہ نَفْس پر کتنا ہی گِراں ہو خوش دِلی کے ساتھ سرآنکھوں پر لیجئے۔
(4…)اُن کی پسند کے کھانے ان کی مرضی کے مُطابِق عُمدہ طریقے پر پکا کر، بَشَّاشَت (خوشی)کے ساتھ پیش کرکے ان کے دِل میں خوشی داخِل کرکے بے اندازہ ثواب کی حَقدار بنئے۔حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایَت ہے کہ دو جَہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک فرائض کی ادائیگی کے بعد سب سے اَفضل عَمَل مسلمان کے دِل میں خوشی داخِل کرنا ہے۔[2]
(5…)ان کی ہر وہ تَنقِید جو شرعاً دُرُست ہو اگر اس پر بُرالگے تو اسے شیطان کا وار سمجھ کر لاحول شریف پڑھ کر شیطان کو نامُراد لوٹائیے۔
(6…)اگر کسی خَطا بلکہ غَلَط فہمی کی بنا پر بھی میاں ڈانٹ ڈپٹ کرے یا بِالْفَرْض مارے تو ہنسی خوشی سہہ لیجئے کہ اس میں آپ کی آخِرَت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی بھلائی ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّگھر اَمْن کا گہوارہ رہے گا۔
(7…)اگر سامنے زبان چلائی، منہ پھلایا، برتن پچھاڑے، میاں کا غصّہ بچوں پر اُتارا اور اسی طرح کی دیگر نامُناسِب حرکتیں کیں تو اِس سے حالات سنورنے کے بجائے مزید بگڑیں گے ، یہ اَچھّی طرح گِرِہ میں باندھ لیجئے کہ اِس طرح کرنے سے اگر بَظاہِر صُلْح ہو بھی گئی تب بھی دِلوں میں سے نفرتیں خَتْم ہونے کا اِمکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
(8…)میاں کی خامیوں کے بجائے خوبیوں ہی پر نَظَر رکھئے اور ان کے حَق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتی رہئے۔
عیبوں کو عیب جُو کی نظر ڈھونڈتی ہے پر
جو خوش نظر ہے خُوبیاں آئیں اُسے نظر
(9…)میاں یا سسرال کی شِکایَت میکے میں کرنا دنیا و آخِرَت کیلئے سَخْت نُقْصَان دِہ ثابِت ہو سکتا ہے کہ فی زمانہ مُشاہَدہ یہی ہے کہ اس طرح غیبتوں، تہمتوں، چغلیوں، عیب دَریوں اور دِل آزاریوں وغیرہ طرح طرح کے گناہوں کا بَہُت بڑا دروازہ کھل جاتا ہے، پھر اس کی نُحُوسَت سے بارہا دنیا میں یہ آفَت آتی ہے کہ گھر ٹوٹ جاتا ہے۔
(10…)ہاں اگر واقعی شوہر ظُلْم کرتا ہے یا سسرال والے ستاتے ہیں تو صِرف ایسے شخص کو اچّھی نیّت کے ساتھ فریاد کی جائے جو ظُلْم سے بچا سکتا ، صُلْح کروا سکتا ہو یا اِنصاف دِلوا سکتا ہو، باقی صِرف بھڑاس نِکالنا، دِل ہلکا کرنے کیلئے گھر کی باتیں میکے یا سہیلیوں کے پاس کرنا غیبتوں اور تہمتوں وغیرہ کے گناہوں میں ڈال کر سننے سنانے والوں کو جہنّم کا حَقدار بنا سکتا ہے۔
(11…)بِالْفَرْض شوہر یا ساس وغیرہ کی کسی حَرَکت سے کبھی دِل کو ٹھیس پہنچے تو خود کو قابو میں رکھئے، یہ آپ کے اِمْتِحَان کا مَوْقَع ہے کہ یا تو زبان ودِل کو قابو میں رکھ کر صَبْر کرکے جنّت کی لازوال نعمتوں کو پانے کی سعی کیجئے یا زَبان کی آفتوں میں پڑ کر شَریعَت کا دائرہ توڑ کر اپنے آپ کو جہنّم کی حَقدار ٹھہرائیے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع