30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شادی کے مَوْقَع پر امیرِ اہلسنّت کی طرف سے اسلامی بہنوں کو دیا جانے والا مکتوب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
سگِ مدینہ محمد اِلیاس عطّار قادِری رضوی عُفِیَ عَنْہ کی جانِب سے دربارِ مدینہ کی بھکارن، کنیزِ غوثِ زَمَن، خادِمۂ شہنشاہِ ذُو المِنَن کی خِدْمَت میں مدینۂ منوّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کی مسکراتی ہوئی بہاروں اور مکّہ مکرّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے رنگین ریگزاروں اور وہاں کے خُوبْصُورَت پہاڑوں کی قِطاروں کی برکتوں سے مالا مال مہکا مہکا خوشگوار سلام۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُهٗ اَلْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ عَلٰی کُلِ حَال
اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو دونوں جَہاں میں شاد وآباد رکھے، آپ کی خوشیوں کو طویل کرے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو مدینہ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً کے سدا بہار پھولوں کی طرح ہمیشہ مسکراتی رکھے۔ آپ کی بیماریاں، پریشانیاں، گھریلو ناچاقیاں، تنگ دستیاں، قرض داریاں دُور ہوں۔ اِزدواجی زِنْدَگی خوشگوار گزرے۔ اَولادِ صَالحہ سے گود ہری رہے، بار بار حج کا شَرَف ملے اور میٹھا مدینہ چومنا نصیب ہو۔اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
آپ کی دنیا و آخِرَت کی بہتری کے جذبے کے تحت مَحْض حُصولِ ثواب کی خاطِر عَرْض کرتا ہوں کہ اپنے شوہر کی خِدْمَت میں کوتاہی مَت کرنا، اس ضِمن میں میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے6 خوشبودار اِرْشادات پیش کرتا ہوں:
(1 …)قَسَم ہے اُس کی جس کے قبضۂ قُدْرَت میں میری جان ہے! اگر قَدَم سے سر تک شوہر کے تمام جِسْم میں زَخْم ہوں جن سے پیپ اور کَچ لَہُو بہتا ہو پھر عورت اُسے چاٹے تب بھی حَق شوہر ادا نہ کیا ۔[1]
(2 …)حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں عَرْض کی کہ دو عورتیں دروازے پر یہ سُوال کرنے کے لئے کھڑی ہیں کہ اگر وہ اپنے شوہر اور اپنے زیرِ کَفَالَت یتیموں پر صَدَقہ کریں تو کیا انکی طرف سے صَدَقہ ادا ہوجائے گا؟ تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دَرْیَافْت فرمایا:وہ عورَتیں کون ہیں؟ حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عَرْض کی:اَنصار کی ایک عورت اور زینب ہے۔تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:ان دونوں کے لئے دُگنا اَجر ہے، ایک رشتہ داری کا اوردوسرا صَدَقے کا ۔[2]
(3 …)شوہر نے بیوی کو بلایا اُس نے اِنکار کردیا اور اُس (شوہر) نے غصّہ میں رات گزاری تو فِرشتے صُبْح تک اُس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔[3]اور دوسری رِوایَت میں ہے:(شوہر) جب تک اُس سے راضی نہ ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس عورت سے ناراض رہتا ہے۔[4]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع