30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر بُلَند ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ َکا مَحْبُوب (یعنی پیارا)بنادیتے ہیں اور وہ زمین پر(لوگوں کو)نصیحتیں کرتے چلتے ہیں۔عَرْض کی گئی:وہ کِس طرح لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا مَحْبُوب(یعنی پیارا) بناتے ہیں؟اِرشَاد فرمایا:وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مَحْبُوب (یعنی پسندیدہ) باتوں کا حکْم دیتے اور ناپسندیدہ باتوں سے مَنع کرتے ہیں، لہٰذا جب لوگ ان کی اِطَاعَت کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِنہیں اپنا مَحْبُوب بنا لیتا ہے۔[1]
اللہ کا محبوب بنے جو تمہیں چاہے
اُس کا تو بیاں ہی نہیں کچھ تُم جسے چاہو[2]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!مَعْلُوم ہوا بروزِ قِیامَت قابِلِ رَشْک مَقام پر وُہی لوگ فائز ہوں گے جو دوسروں کو نصیحتیں کرتے ہیں یعنی ان کی خیر خواہی کے پیشِ نَظَر اللہ کی پسندیدہ باتوں کا حکْم دیتے اور ناپسندیدہ باتوں سے مَنْع کرتے ہیں۔
وَعْظ و نصیحت کا لَـفْظ عام طور پر خُلُوص وعِبْرَت کے لیے بھلائی کی بات بتانے اور نیک صَلاح مشورے کے مَفہوم میں اِسْتِعمال ہوتا ہے۔[3]جیسا کہ شِفا شریف میں ہے کہ جس شخص کو نصیحت کی جا رہی ہو، اس کی مُکَمَّل بھلائی اور خَیر خواہی کے اِرادے کو لَـفْظِ نصیحت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔[4]
شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبد المصطفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی جَواہِرُ الحدیث میں فرماتے ہیں: نَصِیْحَة کے معنیٰ لُغَت میں اِخْلَاص اور خَیر و صَلاح کی طرف بُلانا اور شَر و فساد سے روکنا ہے۔ اِمام سلیمان خطابی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ لَـفْظِ نَصِیْحَة ایک ایسا جامِع لَـفْظ ہے کہ اس کے معنیٰ کو اَدا کرنے کے لیے عربی میں کوئی دوسرا مُفْرَد لَـفْظ نہیں ہے، بَہَرحَال عام طور پر اردو میں اس لَـفْظ کا ترجمہ ”خیر خواہی“ کیا جاتا ہے جو خود بھی ایک بَہُت ہی جامِع لَـفْظ ہے۔[5]
حضرت سَیِّدُنا اِمام فخر الدّین رازِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اس کی تعریف کچھ یوں بیان کرتے ہیں: نصیحت وہ کلام ہے جوراہ ِدین میں ناروا اور نامُناسِب باتوں سے روکنے کا فائدہ دے۔[6]دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 868 صَفحات پر مُشْتَمِل کِتاب اِصلاحِ اَعمال جلد اَوّل صَفْحَہ 244پر ہے: وَعْظ کہتے ہیں ایسی ڈانٹ ڈپٹ کو جس میں ڈرانا پایا جائے۔چنانچہ اِمام خلیل نحوی کہتے ہیں:وَعْظ خیر کی ایسی باتیں یاد دِلانے کو کہتے ہیں جن سے دِل نَرْم پڑجائے اور یہ بھی کہا گیاہے کہ وَعْظ ایسی بات کی طرف رہنمائی کرنے کو کہتے ہیں جو بطریقۂ رَغْبَت و ڈر اِصلاح کی طرف بلائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع