30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1)…رات کے اندھیرے میں ڈرجانے والی، بِلّی کی میاؤں پر چونک پڑنے والی، کتّے کے بھونکنے پر راستہ بَدَل دینے والی، سانپ اور بِچھّو کا نام سن کر تَھر تَھر کانپ اٹھنے والی، سلگتی ہوئی آگ کو دُور سے دیکھ کر گھبرانے والی، بلکہ فَقَط دھوئیں سے بے چین ہوجانے والی اسلامی بہنوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہے کہ جب قَبْر میں داخِل ہوں گی تو وہ تمام چیزیں انہیں ڈرانے کیلئے آجائیں گی جن سے دنیا میں تو ڈرتی تھیں مگر اللہ سے نہ ڈرتی تھیں۔[1]
(2)…ہر مرنے والی خامو شی کے ساتھ یہ پیغام دیتی چلی جاتی ہے کہ جس طرح میں دنیا سے رُخْصَت ہو کر مَنوں مِٹّی تلے دَفْن کی جانے والی ہوں آپ کو بھی اسی طرح رُخْصَت ہوکر دَفْن ہونا ہے۔[2]
(3)…ہمارا اندازِ زِنْدَگی یہ بتارہا ہے کہ مَعَاذَ اللہ گویا ہمیں کبھی مرنا ہی نہیں، یاد رکھئے !ہمیں یہاں ہمیشہ نہیں رہنا، اِس دنیا میں آنے کا مَقْصَد صِرْف مال کمانا یا فَقَط دنیا کے عُلُوم وفُنُون کی ڈِگریاں پانا اور صِرْف دُنیوی ترقّیاں حاصِل کئے جانا نہیں ہے۔[3]
(4)…گھروں کی فَرَاخِی کا تو خَیال رکھا جاتا ہے مگر قَبْر کی وُسْعَت کا کسی کو کوئی اِحْسَاس نہیں، دُنیا کے روشن مُسْتَقْبِل کی تو ہرایک کو فِکْر ہے مگر قَبْر کی روشنی کی طرف کسی کا دھیان نہیں۔[4]
(5)…دولت سے دوا تو مل سکتی ہے لیکن شِفا نہیں مل سکتی، اگر دولت سے شِفا مل سکتی تو امیر ہسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کرہر گز نہ مرتے۔[5]
(6)…گھڑی کا گزرنے والا ہر گھنٹہ ہماری عمر کے ایک گھنٹے کے کم ہوجانے کی اطّلاع دیتا ہے۔[6]
(7)…قَبْر کے اِمْتِحَان سے گزَر کر قِیامَت کے اِمْتِحَان سے واسطہ پڑناہے۔[7]
(8)…دُنیوی کَل کے سُدھرنے کا اِنتِظار کرنے والی نجانے کتنی اسلامی بہنوں کی آہِ حَسْرَت موت کی ہچکیوں سے ہم آغوش ہوجاتی ہے اور وہ روشن مُسْتَقْبِل پاکر خوشیاں مَنانے کے بجائے اندھیری قَبْر میں اُتر کر قَعرِ اَفْسَوس (رنج کے گڑھے )میں جا پڑتی ہیں۔[8]
(9)…موت کے جھٹکوں اور نَزع کی سختیوں کا عِلْم ہونے کے باوُجود اَفْسَوس! ہم اِس دنیا میں اطمینان کی زِنْدَگی گزار رہی ہیں۔[9]
(10)…ہمارا ہر سانس موت کی طرف گویا ایک قَدَم اور ہمارے شب وروز موت کی جانِب گویا ایک ایک مِیل ہیں ۔[10]
[1] بیاناتِ عطاریہ حصہ اول، قبر کا امتحان، ص ۳۲۴
[2] بیاناتِ عطاریہ حصہ اول، قبر کا امتحان، ص ۳۲۷
[3] بیاناتِ عطاریہ حصہ اول، مردے کی بے بسی، ص ۳۶۰
[4] بیاناتِ عطاریہ حصہ اول، قیامت کا امتحان، ص ۴۰۹
[5] بیاناتِ عطاریہ حصہ اول، قیامت کا امتحان، ص ۴۱۰
[6] بیاناتِ عطاریہ حصہ اول، قیامت کا امتحان، ص ۴۲۱
[7] بیاناتِ عطاریہ حصہ اول، قیامت کا امتحان، ص ۴۲۲
[8] بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم، میں سدھرنا چاہتا ہوں، ص ۴۱
[9] بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم، بادشاہوں کی ہڈیاں، ص ۸۳
[10] بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم، بادشاہوں کی ہڈیاں، ص ۸۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع