30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاصِل کر لینے کے اَوصاف دکھائی دیتے ہیں اور واقعی تم اس کے لائق بھی ہو، اگر اس کے والی بن جاؤ تو ناحَق خون ریزی سے اِجْتِنَاب کرنا ! کیونکہ میں نے شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا ہے: جو شخص کسی مسلمان کا ناحَق خون بہائے گا تو وہ جنّت کے دروازے سے اس وَقْت دُور کیا جائے گا جب وہ بِالْکُل اس کی نظروں کے سامنے ہوگی۔ [1]
ایک مرتبہ اَمیرُ الْمُومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوق اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چند لوگوں کے ہمراہ مسجِد سے باہَر تشریف لائے تو راستے میں ایک بُزرگ خاتون کو دیکھا، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے سلام کیا تو سلام کا جواب دیتے ہوئے اس عورت نے کہا: اے عمر سنئے! مجھے آپ کا وہ وَقْت یاد ہے کہ جب بازارِ عُکّاظ میں آپ کو عُمَیر کہہ کر پکارا جاتا تھا آپ اپنے عَصا سے بچوں کو ڈرایا کرتے تھے، ابھی اس بات کو زیادہ وَقْت نہیں گزرا کہ آپ کو عمر کہا جانے لگااور اس بات کو بھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ آپ اَمیرُ الْمُومنین کے لَقَب سے مَوسُوم ہو گئے ہیں، مخلوق کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈریئے اور جان لیجئے ! جو وعید سے ڈرا دُور کی چیز اس کے قریب ہو جائے گی کہ موت سے وُہی ڈرتا ہے جسے کچھ کھو جانے کا خوف ہوتا ہے۔پاس کھڑے کسی شخص نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: اے اَمیرُ الْمُومنین!
آپ نے اپنے ساتھ دیگر لوگوں کو بھی اس بڑھیا کے پاس کھڑا کر رکھا ہے۔تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے فرمایا:تم جانتے ہو یہ کون ہیں؟ یہ تو حضرت خولہ ہیں جن کی بات اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بھی سنی[2]ہے، اللہ کی قَسَم! عمر، ان کی بات سننے کا زیادہ حَق رکھتا ہے۔ [3]
قرآن و سنّت سے ماخوذ نصیحتوں کے مدنی پھول
پردے و زینت سے متعلق مدنی پھول
[1] الاستیعاب، کتاب النساء وکناهن، باب الباء، ۳۲۶۶-بریرة مولاة عائشة، ۲/ ۴۹۱
[2] ترجمۂ کنز الایمان: بیشک الله نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے مُعَامَلہ میں بحث کرتی ہے (پ۲۸، مجادلة:۱) وہ خولہ بنتِ ثعلبہ تھیں ، اَوس بن صامِت کی بی بی ۔
شانِ نزول : کسی بات پر اَوس نے ان سے کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے، یہ کہنے کے بعد اَوس کو ندامت ہوئی ، یہ کلمہ زمانۂ جاہلیت میں طلاق تھا، اَوس نے کہا میرے خیال میں تو مجھ پر حرام ہوگئی ، خولہ نے سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں حاضِر ہو کر تمام واقعات عرض کئے اور عرض کیا کہ میرا مال خَتْم ہوچکا، ماں باپ گذر گئے ، عمر زیادہ ہوگئی ، بچے چھوٹے چھوٹے ہیں ، ان کے باپ کے پاس چھوڑوں تو ہلاک ہوجائیں، اپنے ساتھ رکھوں تو بھوکے مرجائیں ، کیا صورت ہے کہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان جدائی نہ ہو ؟ سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تیرے باب میں میرے پاس کوئی حکم نہیں یعنی ابھی تک ظِہار کے مُتَعَلِّق کوئی حکمِ جدید نازِل نہیں ہوا، دستورِ قدیم یہی ہے کہ ظِہار سے عورت حرام ہوجاتی ہے ، عورت نے عرض کیا: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اَوس نے طلاق کا لفظ نہ کہا ، وہ میرے بچّوں کا باپ ہے اور مجھے بَہُت ہی پیارا ہے ، اسی طرح وہ بار بار عرض کرتی رہی اور جواب حَسْبِ خواہش نہ پایا تو آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہنے لگی:یاالله تعالٰی!میں تجھ سے اپنی محتاجی و بے کسی اورپریشان حالی کی شکایت کرتی ہوں، اپنے نبی پر میرے حق میں ایسا حکْم نازِل فرماجس سے میری مصیبت رفع ہو۔حضرت اُمّ الْمُومنین عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے فرمایا خاموش ہو دیکھ چہرۂ مبارکِ رسولِ کریم پر آثارِ وحی ظاہِر ہیں ، جب وحی پوری ہوگئی ، فرمایا اپنے شوہر کو بلا، اَوس حاضِر ہوئے تو حُضُور نے (ظہار اور اس کے کفارے کے متعلق پ ۲۸، سورۂ مجادلہ کی ابتدائی۴) آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ (خزائن العرفان، پ ۲۸، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ص ۱۰۰۱)
[3] اصابة ، کتاب النساء، حرف الخاء، ۱۱۱۱۸-خولة بنت مالك، ۸ /۱۲۶ملتقطًا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع