30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے خوف زدہ ہو کر یمن کی طرف بھاگ گئے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں قَتْل کردیں گے تو آپ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے آپ کے لیے نہ صِرف سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اَمان حاصل کی بلکہ تِہامہ کے ساحِل تک ان کی تلاش میں گئیں تاکہ ان کی طرح ان کے زِنْدَگی کے ہَمْسَفَر بھی دولتِ اسلام سے مالا مال ہو جائیں۔ پھر ان کے مل جانے پر خیرخواہی سے بھرپور لہجے میں یوں گویا ہوئیں: اے میرے چچا زاد! میں ایک ایسی عظیم ہستی کے پاس سے آرہی ہوں جو بَہُت زیادہ رحم دِل اور اِحسان فرمانے والی ہے، وہ لوگوں میں سب سے اَفضل ہے۔ لہٰذا خود کو ہَلاکَت میں مَت ڈالئے۔آخر آپ کی یہ نصیحت بھری باتیں حضرت سَیِّدُنا عِکْرِمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دِل میں گھر کر گئیں اور وہ بارگاہِ نبوّت میں حاضِر ہوکر اِسلام لے آئے۔ [1]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!اَفْسَوس صد اَفْسَوس !آج ہم میں سے بیشتر کی حَالَت یہ ہو گئی ہے کہ اپنے شوہروں کو نارِ جہنّم سے بچانے کے بجائے اپنی بے جا نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے انہیں خود اپنے ہاتھوں جہنم کی آگ کا ایندھن بننے پر مَـجْبُور کر رہی ہیں اور ایک وہ صحابیات طیبات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ تھیں کہ خود حاجت مند ہونے کے باوُجُود اپنے شوہر کو سب کچھ راہِ خدا میں خَرْچ کر دینے کا مشورہ دیا کرتی تھیں۔جیسا کہ مَنْقُول ہے کہ ایک بار امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاہلِ حِمْص کو یہ مَکْتُوب روانہ فرمایا کہ مجھے اپنے فُقَرا کے مُتَعَلِّق بتاؤ۔ انہوں نےاپنے شہر کے تمام فُقَرا کے نام لکھ کر پیش کر دئیے۔ ان میں حضرت سَیِّدُنا سعید بن جُذَیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام بھی تھا اور ایک قول کے مُطابِق حضرت سَیِّدُنا عُمَیر بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نامِ نامی تھا۔ چنانچہ اَمیرُ الْمُومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےپوچھا: یہ سعید بن جُذیم کون ہیں؟ عَرْض کی: اے اَمیرُ الْمُومنین! یہ ہمارے حاکِم ہیں۔ پوچھا: کیا وہ فقیر ہیں؟ عَرْض کی: جی ہاں! ہم میں ان سے بڑا کوئی فقیر نہیں۔دَرْیَافْت فرمایا:وہ تحائف و وَظائف کا کیا کرتے ہیں؟ عَرْض کی: وہ سب کچھ راہِ خُدا میں خَرْچ کر دیتے ہیں اور اپنے اور اپنے اَہْل و عَیال کے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھتے۔ یہ جان کر امیر المومنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سَیِّدُنا سعید بن جُذَیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو 400 دینار بھیجے اور حکْم اِرشَاد فرمایا کہ انہیں خود پر اور اپنے گھر والوں پر خَرْچ کیجئے گا۔ جب یہ رقم ان کے پاس پہنچی تو وہ رونے لگے اور پھر روتے روتے اپنی زوجۂ محترمہ کے پاس گئے تو انہوں نے عَرْض کی: آپ کو کیا ہوا ہے؟ کیا اَمیرُ الْمُومنین اس دُنیائے فانی سے کُوچ فرما گئے ہیں؟فرمایا: اس سے بھی بڑا حادِثہ رُونُما ہوا ہے۔ عَرْض کی:کیا مسلمانوں میں اِنْتِشَار پیدا ہو گیا ہے؟ فرمایا: اس سے بھی بڑا مُعَامَلہ ہے۔ عَرْض کی: تو پھر خود ہی بتا دیجئے کہ کیا ہوا ہے؟ فرمانے لگے: میرے پاس دنیا آگئی ہے، حالانکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحْبُوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رہا مگر دنیامجھ پر کُشَادہ نہ ہو سکی، اَمیر ُالْمُومنین حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانے میں بھی دنیا مجھ پر کُشَادَگی میں کامیاب نہ ہو سکی اور اب اَمیر ُالْمُومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانے میں یہ آخِر میرے پاس آہی گئی ہے، ہائے اَفْسَوس! یہ زمانہ بھی کیسا ہے! ان کی یہ بات سن کر نیک بخت زوجہ نے عَرْض کی: میری جان آپ پر قربان! اس کے ساتھ جو سُلُوک چاہے فرمایئے۔ فرمایا:کیا میں جو چاہتا ہوں اس میں میری مَدَد کریں گی؟ عَرْض کی:جی ہاں! ضَرور کروں گی۔ فرمایا: مجھے وہ پُرانی چادَر دیجئے۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس چادَر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے تین۳ تین۳، پانچ۵ پانچ۵ اور دس دس دِینار کی تھیلیاں بنائیں یہاں تک کہ تمام دِینار خَتْم ہو گئے، پھر ان تمام تھیلیوں کو اپنے بڑے تھیلے میں ڈالا اور بَغَل میں دَبا کر باہَر چل دئیے، راستے میں جِہاد پر جانے والے
[1] کنز العمال، کتاب الفضائل، فضائل الصحابة، حرف العين، عکرمة رضی الله عنه، المجلد السابع، ۱۳ / ۲۳۲، حدیث:۳۷۴۱۶ مفهومًا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع