30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! آپ بھی کوشِش کیجئے کہ آپ کے بچوں کی زبان سے بھی سب سے پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نامِ نامی ہی اَدا ہو کہ ایک فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں بھی ایسا ہی مَرْوِی ہے کہ اپنے بچوں کی زبان سے سب سے پہلے لَا اِلٰهَ اِلَّا الله کہلواؤ۔[1] چنانچہ شیخ ِ طریقت، اَمِیرِ اہلِسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد اِلیاس عطّار قادِری رَضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی نواسی کیلئے سب گھر والوں کو کہہ رکھاتھا کہ اس کے سامنے اللہ اللہ کا ذِکْر کرتے رہیں تاکہ اس کی زبان سے پہلا لفظ اللہنکلے اور جب وہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں لائی جاتی توآپ خود بھی اس کے سامنے ذِکرُ اللہ کرتے۔ چنانچہ جب اس نے بولنا شروع کیا تو پہلا لفظ”اللہ“ ہی بولا۔[2]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! بچوں کے بڑے ہو جانے کے بعد بھی ماں کی ذِمَّہ داری خَتْم نہیں ہوجاتی کہ وہ انہیں خیر خواہی پر مُشْتَمِل نصیحتیں کرنا بند کر دے، کیونکہ بچے عموماً ماں کی نصیحت فوراً قبول کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 24 صَفحات پر مُشْتَمِل رسالے جوشِ ایمانی صَفْحَہ 5پر ہے: جنگِ قادِسِیہ (جو امیرُ الْمُومنین حضرتِ سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خِلافَت میں لڑی گئی تھی) میں حضرتِ سیِّدَتُنا خَنساء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا چاروں شہزادوں سَمیت شریک ہوئی تھیں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جنگ سے ایک روز قَبْل اپنے چاروں شہزادوں کو اس طرح نصیحت فرمائی:میرے پیارے بیٹو! تم اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے اور اپنی ہی خوشی سے تم نے ہجرت کی، اس ذات کی قَسَم! جس کے سِوا کوئی مَعْبُود نہیں، تم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو، میں نے تمہارے نَسَب کو خراب نہیں کیا، تمہیں مَعْلُوم ہے کہ اللہُ غَفَّار عَزَّ وَجَلَّ نے کُفّار سے مُقابَلہ کرنے میں مجاہِدین کے لئے عظیمُ الشّان ثواب رکھا ہے۔ یاد رکھو! آخِرَت کی باقی رہنے والی زِنْدَگی دنیا کی فنا ہونے والی زِنْدَگی سے بَدَرَجہا بہتر ہے۔ سنو! سنو! قرآنِ پاک کے پارہ4 سورۂ آلِ عِمران کی آیَت نمبر 200 میں اِرشَاد ہوتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) (پ۴، آل عمران:۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے اِیمان والو! صَبْر کرو اور صَبْر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اِسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، اس امّید پر کہ کامیاب ہو۔
صُبح کو بڑی ہوشیاری کے ساتھ جنگ میں شِرْکَت کرو اور دشمنوں کے مُقابلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مَدَد طَلَب کرتے ہوئے آگے بڑھو اور جب تم دیکھو کہ لڑائی زور پر آگئی اور اس کے شُعلے بھڑکنے لگے ہیں تو اس شعلہ زن آگ میں کود جانا، کافِروں کے سردار کا مُقابَلہ کرنا، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عزّت و اِکرام کیساتھ جنّت میں رہو گے۔ جنگ میں حضرت ِسیِّدتُنا خَنساء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے چاروں شہزادوں نے بڑھ چڑھ کرکُفّار کا مُقابَلہ کیا اور یکے بعد دیگرے جامِ شَہادَت نوش کرگئے۔ جب ان کی والِدۂ محترمہ کو ان کی شَہادَت کی خَبَر پہنچی تو اُنہوں نے بجائے واوَیلا مچانے کے کہا: اُس پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شُکْر ہے جس نے مجھے چار شہید بیٹوں کی ماں بننے کا شَرَف عَطا فرمایا۔ مجھے اللہ رَبُّ العزّت کی رَحْمَت سے اُمّید ہے کہ میں بھی ان چاروں شہیدوں کے ساتھ جنّت میں رہوں گی۔ [3]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع