30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صُبْح کی نماز ادا فرما کر واپَس لوٹے تو عورتوں کے پاس کھڑے ہوکر اِرشَاد فرمایا:اے بیبیو! میں نے اَہْلِ جہنّم میں اَکْثَر عورتوں کو دیکھا، لہٰذا اپنی اِسْتِطاعَت کے مُطابِق (صَدَقہ وخیرات کے ذریعے) قُرْبِ الٰہی حاصِل کرو۔وہاں حضرتِ سیِّدَتُنا زینب ثقفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بھی مَوجُود تھیں۔ آپ گھر گئیں، اپنے شوہر کو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کے بارے میں بتایا اور زیورات اُٹھانے لگیں تو حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا:انہیں کہاں لے جارہی ہیں؟عَرْض کی:(صَدَقہ کرکے) انکے ذریعے اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّوَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرْب حاصِل کروں گی تاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اَہْلِ جہنّم میں سے نہ کرے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:انہیں مجھ پر اور میرے بیٹے پر صَدَقہ کردو کیونکہ ہم اس کے (زیادہ)مُسْتَحِق ہیں۔[1]
سَیِّدُنا حصین بن محصن کی پھوپھی کو عطا کردہ مدنی پھول
حضرت سَیِّدُنا حُصَیْن بِن مِـحْصَن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پھوپھی جان کسی کام کے سلسلہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ عالی شان میں حاضِر ہوئیں اور جب اپنے کام سے فارِغ ہو گئیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے اِسْتِفْسَار فرمایا: کیا تمہارا شوہر ہے؟ عَرْض کی: جی ہاں۔ پھر اِسْتِفْسَار فرمایا: تمہارا س کے ساتھ سُلُوک کیساہے؟ عَرْض کی : میں ان کے کسی کام میں کوتاہی نہیں کرتی مگر جس کام سے میں عاجِز آجاؤں ۔ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: تم اپنے سُلُوک پر غورو فِکْر کر لو کیونکہ تمہارا شوہر ہی تمہاری جنّت اور جہنّم ہے۔ [2]
سیدتنا خولہ بنت قیس کو عطا کردہ مدنی پھول
حضرت سَیِّدُنا حمزہ بن عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنا خولہ بنت قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے چچا حضرت سَیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس تشریف لائے تو میں نے کھانا تیّار کیا جسے تَناوُل کرنے کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: کیا میں تمہاری گناہوں کو مِٹانے والی چیز کی طرف رہنمائی نہ کروں ؟ عَرْض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اِرشَاد فرمائیے۔فرمایا:نہ چاہتے ہوئے بھی وُضو کرنا، مَسْجِد میں کَثْرَت سے جانا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا اِنتِظار کرنا گناہوں کو مِٹاتا ہے۔ [3]
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں کہ میں نے حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِرشَاد فرماتے سنا کہ دنیا لذیذ اور سرسبز وشاداب ہے جو شخص حَلال (ذرائع سے) مال کماتا ہے اس کے لیے اس میں بَرَکت ڈال دی جاتی ہے اور بَہُت سے لوگ نفسانی خواہش کی پَیروی کرتے ہوئے اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مال میں تَصَرُّف کرتے ہیں قِیامَت کے دن ان کے لیے جہنّم کی آگ ہوگی۔[4]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع