30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائز ہے، اس دَم پر اُجْرَت لینا بھی دُرُسْت ہے۔[1]
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں کہ مَحْبُوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آخری وَصیَّت یہ فرمائی: نَماز کی پابندی کرنا اور اپنے غلاموں کا خَیال رکھنا۔[2]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!نَماز اللہعَزَّ وَجَلَّ کی خوشنودی اور دعاؤں کی قبولِیَّت کا سَبَب ہے، اس سے گناہ مُعاف ہوتے اور روزی میں بَرَکت ہوتی ہے، یہ بیماریوں، عَذابِ قَبْر و جہنّم سے بچا کر جنّت میں لے جاتی ہے، نماز مومن کی معراج اور ہمارے پیارے پیارے آقا مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی آخری وَصِیَّت میں بھی نماز کی اَہَمِیَّت کو بیان فرمایا۔ چنانچہ صحابیات طیبات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی سیرت سے مَعْلُوم ہوتا ہے کہ وہ نَماز کی حد دَرَجَہ حریص تھیں، فرض نماز تو ایک طرف، وہ نوافل کی کَثْرَت کا بھی خوب اِہتِمام فرماتی تھیں، جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ ایک بار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نَوَافِل کی ترغیب دِلاتے ہوئے اِرشَاد فرمایا: جو 12رَکْعَت نَفْل روزانہ پڑھے گا اس کے لیے جنّت میں گھر بنایا جائے گا۔ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میں ہمیشہ 12رَکْعَت نَفْل روزانہ نِہَایَت پابندی سے پڑھتی رہی۔[3]اسی طرح اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی روزانہ بِلاناغہ نمازِ تہجُّد پڑھا کرتی تھیں[4] اور سیدہ خاتونِ جنّت رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا رات بھر نماز میں مشغول رہتیں یہاں تک کہ صُبْح طُلُوع ہو جاتی۔[5]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!اَفْسَوس صَد اَفْسَوس!ایک صحابیات طیبات تھیں جو فَرْض کے عِلاوہ نَفْل نَماز کا بھی خوب اِہتِمام کرتیں اور ایک ہم ہیں کہ فَرْض نَماز کی ادائیگی میں ہزاروں حیلے بہانے تراشتی رہتی ہیں، کبھی گھریلو کاموں کی زِیادَتی کا بہانہ نَماز کی بَروَقْت ادائیگی سے مانِع ہوتا ہے تو کبھی بچوں کی دیکھ بھال میں مصروفیت کا شِکوَہ زبان پر رہتا ہے اور بسا اَوقات اسی ٹال مٹول میں نَماز تک قضا کر بیٹھتی ہیں۔ یاد رکھئے!نماز نہ پڑھنایا جان بوجھ کر قضا کرنا حَرام اور جہنّم میں لے جانا والا کام ہے۔جیسا کہ اعلیٰ حضرت اِمام احمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 5 صَفْحَہ 110 پرفرماتے ہیں:جو ایک وَقت کی نَماز بھی قَصداً بِلا عُذرِ شَرْعِی دیدَہ ودانِستہ (جان بوجھ کر) قَضا کرے فاسِق و مُرْتکِبِ کبیرہ و مُسْتَحِقِّ جہنَّم ہے۔
ایک شَخص کی بہن فوت ہو گئی۔ جب اُسے دَفن کر کے لوٹا تو یاد آیا کہ رقم کی تَھیلی قَبْر میں گر گئی ہے، چُنانچِہ قبرِستان آ کر تھیلی نکالنے
[1] مراۃ المناجیح، دواؤں اور دعاؤں کا بیان، پہلی فصل، ۶/۲۲۲
[2] مسند احمد، مسند النساء، حدیث ام سلمة زوج النبی، ۱۱/۲۱، حدیث:۲۷۲۴۰
[3] مسند احمد، مسند النساء، حدیث ام حبیبة ... الخ، ۱۱/ ۱۰۰، حدیث: ۲۷۵۳۲ ملتقطًا
[4] سیرت مصطفیٰ، ص ۶۶۰ بتصرف
[5] مدارج النبوۃ، قسم پنجم، باب اول در ذکرِ اولادِ کِرام، وصل دختران آنحضرت علیہ السلام، ۲/۴۶۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع