30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا پہلے (حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رضاعی بھائی[1] )حضرت سَیِّدُناابو سَلَمَہ عبد اللہ بن اَسَد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بیاہی گئی تھیں، دونوں میاں بیوی نے حبشہ و مدینہ مُنَوَّرہ کی طرف ہجرت کرنے کی سَعَادَت پائی، شوہر کے اِنْتِقَال کے بعد جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بڑی بے کسی میں پڑ گئیں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیوگی میں زِنْدَگی بَسَر کرنا دشوار ہو گیا تو یہ دیکھ کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے نِکاح فرمالیا اور بچوں کو اپنی پرورش میں لے لیا۔اس طرح یہ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گھر آگئیں اور تمام اُمَّت کی ماں بن گئیں۔[2]چنانچہ،
مَرْوِی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے شوہر حضرت سَیِّدُنا ابو سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وفات کے بعد حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَعْزِیَت کیلئے آپ کے پاس تشریف لائے تو اُس وَقْت آپ نے اپنے چہرے پر مُصَبَّر (ایلوا)کا لیپ کیا ہوا تھا، سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ دیکھ کر دَرْیَافْت فرمایا: اُمِّ سَلَمَہ یہ کیا ہے؟ تو گویا آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عَرْض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عِدَّت میں چونکہ خوشبو لگانا مَنْع ہے اور ایلوے میں خوشبو نہیں ہوتی، اس وجہ سے میں نے اس کا لیپ کرلیا۔اِرشَاد فرمایا:اس سے چہرہ میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے، اگر لگانا ہی ہے رات میں لگا لیا کرو اور دن میں صاف کر ڈالا کرو۔یعنی عِدَّت میں صِرف خوشبو ہی مَـمْنُوع نہیں بلکہ زِیْنَت بھی مَـمْنُوع ہے، ایلوا خوشبودار تو نہیں مگر چہرے کا رنگ نِکھار دیتا ہے اسے رنگین بھی کردیتا ہے، لہٰذا زِیْنَت ہونے کی وجہ سے اس کا لیپ مَـمْنُوع ہے، اگر لیپ کی ضَرورت ہی ہو تو رات میں لگا لیا کرو کہ وہ وَقْت زِیْنَت کا نہیں اور دن میں دھو ڈالا کرو۔ نیزخوشبو اور مہندی سے بال نہ سنوارو۔ (یعنی زمانۂ عِدَّت میں خوشبودار تیل بدن کے کسی حِصّہ خصوصًا سر میں اِسْتِعمال نہ کرو اور ہاتھ پاؤں اور سر میں مہندی نہ لگاؤ کہ مہندی میں بھینی خوشبو بھی ہے رَنگت بھی۔)عَرْض کی: کنگھا کرنے کے لیے کیا چیز سر پر لگاؤں؟ یعنی عورت کو سر دھونے کنگھی کرنے کی ضَرورت ہوتی ہے جب یہ چیزیں مَـمْنُوع ہوگئیں تو یہ ضَرورت کیسے پوری کروں۔فرمایا: بیری کے پتّے سر پر تھوپ لیا کرو پھر کنگھا کرو۔[3] خَیال رہے کہ خوشبو دار تیل لگانا مُعْتَدّہ (عِدَّت گزارنے والی عورت)کے لیے بِالاجماع مَـمْنُوع ہے مگر بغیر خوشبو کا تیل اِمام اعظم و شافعی (رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمَا)کے ہاں مَـمْنُوع ہے، اِمام احمد و مالِک (رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمَا)کے ہاں جائز، وہ دونوں اِمام فرماتے ہیں کہ اس تیل سے زِیْنَت حاصِل ہوجاتی ہے ضرورۃً جائز ہے۔[4]
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے گھر میں ایک لڑکی تھی جس کے چہرہ میں زردی تھی۔نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اسے جھاڑ پھونک کراؤ، کیونکہ اسے نَظَر لگ گئی ہے ۔[5]
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نَظَر کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں: جِن کی نَظَر ہے یا انسان کی۔عُلَما فرماتے ہیں کہ جِنَّات کی نَظَر اِنسانی نَظَر سے سَخْت تر ہوتی ہے۔مِرقات نے فرمایا کہ جِنَّات کی نِگاہ نیزے سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔جائز دعاؤں سے دَم بھی
[1] سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت سَیِّدُنا ابو سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ابو لَہَب کی لونڈی ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، جیسا کہ ابو داود شریف کی حدیث میں سرکار نے خود بیان فرمایا ہے۔ (ابو داود، کتاب النکاح، باب یحرم من الرضاعة … الخ، ص۳۲۸، حدیث:۲۰۵۶)
[2] جنتی زیور، ص۴۸۶بتصرف بحوالہ شرح زرقانی، ام سلمة ام المؤمنین، ۴/۳۹۶-۴۰۳ ملتقطًا
[3] مراۃ المناجیح، مع متن حدیث، عدت کا بیان، دوسری فصل، ۵/۱۵۳-۱۵۴
[4] مراۃ المناجیح، عدت کا بیان، دوسری فصل، ۵/۱۵۴
[5] بخاری، کتاب الطب، باب رقیة العین، ص۱۴۵۱، حدیث:۵۷۳۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع