30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ پہلے وہ نصیحت کو صحیح طریقے سے سمجھے پھر اپنی ذات پر نافِذ کرے، اس کے بعد دوسروں کو نصیحت کرے تاکہ اسکی نصیحت تاثیر کا تیر بن کر دِلوں میں پَیوَسْت ہو۔
نیز اسے خوش اَخلاقی کا دامَن بھی ہمیشہ تھامے رہنا چاہئے کیونکہ جو مُبَلِّغہ خوش اَخلاق ہوگی یعنی سَلام میں پہل کرنے اور گرم جوشی سے مُصَافَحہ و مُعَانَقَہ کرنے کی عادِی ہوگی اور خندہ پیشانی سے مسکرا کر ملنے اور غم خواری کرنے والی ہوگی، دیگر اِسلامی بہنیں آسانی سے اس کی طرف مائل ہوں گی اور اسے نصیحت کرنے میں کسی مُشکِل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!صحابیات طیبات کی زندگیاں فرامینِ مصطفےٰ پر عَمَل کی وجہ سے ہمارے لیے مینارۂ نور کی حَیْثِیَّت رکھتی ہیں، کیونکہ ان کی حَیاتِ فانی فرامینِ مصطفےٰ پر عَمَل کی بَرَکت سے حَیاتِ جاوِدانی (ہمیشہ کی زِنْدَگی)میں بدل گئی۔
سعادت بڑی اس زمانہ کی یہ تھی
کہ جھکتی تھی گردن نصیحت پہ سب کی
نہ کرتے تھے خود قول حق سے خموشی
نہ لگتی تھی حق کی انہیں بات کڑوی
لہٰذا آئیے! نصیحتوں کے کچھ ایسے مَدَنی پھول اپنے دل کے مَدَنی گلدستے میں سجانے کی کوشِش کرتی ہیں جن کی بَرَکت سے ہمارا سینہ بھی مدینہ بن جائے۔ نصیحتوں کے یہ مَدَنی پھول اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابیات طیبات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو براہِ راست عَطا فرمائے یا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابیات طیبات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی مَوجُودَگی میں یہ مَدَنی پھول کسی اور کو عَطا فرمائے اور انہوں نے بھی ان مَدَنی پھولوں کو اپنے دِل کے مَدَنی گلدستے میں سجا لیا۔چنانچہ،
سیدتنا عائشہ صدیقہ کو عطا کردہ مدنی پھول
خلیفۂ اوّل حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی لختِ جگر اور حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ رُومان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی نورِ نظر اُمّ الْمومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو ہجرت سے قَبْل مکہ مکَرَّمہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زَوجِیَّت میں آنے کا شَرَف حاصِل ہوا مگر رُخصتی بعدِ ہجرت مدینہ مُنَوَّرہ میں ہوئی۔[1] آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ ایک بار سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر میں تشریف لائے تو روٹی کا ایک ٹکڑ اپڑا ہوا دیکھا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے پونچھ کر کھا لیا اور اِرشَاد فرمایا: عائشہ! اچھی چیز کا اِحْتِرام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے تو لوٹ کر نہیں آئی۔[2] یعنی اگر ناشکری کی وجہ سے کسی قوم سے رِزْق چلا جاتا ہے تو پھر واپَس نہیں آتا۔[3]
سیدتنا ام سلمه کو عطا کردہ مدنی پھول
اُمّ الْمومنین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا اَصْل نام ہند جبکہ اُمِّ سَلَمَہ کُنِیَّت ہے، آپ اپنی کنیت ہی سے زیادہ مشہور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع