30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنا اور زیادہ خرابی کا باعِث ہوگا تو نہ کرے۔[1]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جب کسی کی کوئی ناگوار بات مَعْلُوم ہوتی تو اُس کا پردہ رکھتے ہوئے اُس کی اِصلاح کا یہ حسین انداز ہوتا کہ یوں اِرشَاد فرماتے : مَا بَالُ اَقْوَامٍ یَقُوْلُوْنَ کَذَا وَکَذَا؟ یعنی لوگوں کو کیا ہو گیاجو ایسی ایسی بات کہتے ہیں۔[2]
کاش!ہمیں بھی اِصلاح کا ڈھنگ آ جائے، ہمارا تو اکثر حال یہ ہو تا ہے کہ اگر کسی کو سمجھانا بھی ہو تو بِلاضَرورتِ شرعی سب کے سامنے نام لے کر یا اُسی کی طرف دیکھ کر اِس طرح سمجھائیں گی کہ بے چاری کی پَولیں بھی کھول کر رکھ دیں گی، اپنے ضمیر سے پوچھ لیجئے کہ یہ سمجھانا ہوا یا اسے ذلیل (DEGRADE)کرنا ہوا ؟ اِس طرح سُدھار پیدا ہوگا یا مزید بگاڑ بڑھے گا ؟
یاد رکھئے!اگر ہمارے رُعب سے سامنے والی چپ ہو گئی یا مان گئی تب بھی اُس کے دل میں ناگواری سی رہ جائے گی جو کہ بُغض و کینہ اور غیبت و تہمت وغیرہ کے دروازے کھول سکتی ہے ۔ حضرتِ سیِّدَتنا اُمِّ درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: جس کسی نے اپنی دینی بہن کو عَلانیہ نصیحت کی اُس نے اُسے عیب لگایا اور جس نے چپکے سے کی تو اُسے زینت بخشی۔[3] البتہ اگر پوشیدہ نصیحت نَفْع نہ دے تو پھر (مَوْقَع اور مَنْصَب کی مُناسَبَت سے )عَلانیہ نصیحت کرے۔[4]
وَعْظ ونصیحت کرنے والی ہر مُبَلِّغہ کو دَرْج ذیل آداب کا خَیال رکھنا چاہئے:
٭…تکبُّر سے بچتے ہوئے ہمیشہ اپنے مالِکِ حقیقی سے حَیا کرتی رہے۔
٭…اپنی حاجَت بارگاہِ الٰہی میں پیش کرے۔
٭…سننے والیوں کے وَعْظ و نصیحت سے فائدہ حاصِل کرنے کی خواہش رکھے۔
٭…اپنی خامیوں پر آگاہ ہو تو اپنے نَفْس کو مَلَامَت کرے۔
٭…سننے والیوں کو سلامتی چاہنے والی نِگاہ سے دیکھے۔
٭…سننے والیوں کی پوشیدہ باتوں کے مُتَعَلِّق حُسْنِ ظَن رکھے۔
٭…اپنی ذات کو طَعْن و تَشْنِیْع (یعنی بُرا بھلا کہلوانے) سے بچانے کیلئے کسی سے کوئی چیز طَلَب نہ کرے۔
٭…اَدَب سکھاتے ہوئے نَرْمی سے کام لے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع