30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خود وہ گناہ نہ کرلے۔[1]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!کسی کو ڈانٹ ڈپٹ کر یا سب کے سامنے نصیحت کرنے سے بھی نصیحت پُرتاثیر نہیں رہتی۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے:جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اسے ذلیل کیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اسے آراستہ کیا۔[2]
حضرت سَیِّدُنا اِمام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی فرماتے ہیں: دوست کا ایک حَق یہ بھی ہے کہ اسے اَچھّی بات بتائی جائے اور نصیحت کی جائے۔ کیونکہ دوست کو عِلْم کی بھی اتنی ہی حاجَت ہوتی ہے جس قَدْر کہ مال کی۔اگر آپ کا سینہ عِلْم کے زیور سے آراستہ ہے تو آپ پر لازِم ہے کہ اپنے دوست کو ہر وہ بات بتائیے جس کی اسے دین ودنیا میں حاجَت ہے۔ عِلْم سِکھانے اور رہنمائی کے بعد اگر وہ عِلْم کے مُطابِق عَمَل نہ کرے تو اب آپ پر لازِم ہے کہ اسے نصیحت کیجئے، وہ جن کاموں میں مبتلا ہے ان کی آفات اور تَرْک کرنے کے فوائد بتائیے اور ان کاموں کی وجہ سے دنیا و آخِرَت میں ہونے والے نقصانات بیان کرکے بھی اسے ڈرائیے تاکہ وہ اپنی مَذمُوم حرکات سے باز آئے، اس کے عُیُوب پر اسے تنبیہ کیجئے، بُرے اَفعال کی بُرائی اور اَچھّے اَفعال کی اَچھّائی اس کے دِل میں راسِخ کیجئے، لیکن یہ تمام کام تنہائی میں کیجئے کہ اس پر کوئی اور مُطّلَع نہ ہو کیونکہ جو کلام لوگوں کے مَجْمع میں کیا جائے اسے ڈانٹ ڈپٹ اور بے عزّتی شُمار کیا جاتا ہے اور جو بات تنہائی میں کی جائے وہ شفقت اور نصیحت سمجھی جاتی ہے۔ حضرت سیِّدُنا اِمام شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْکافی فرماتے ہیں: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو تنہائی میں سمجھایا اس نے اسے نصیحت کی اور زِیْنَت بخشی اور جس نے سب کے سامنے سمجھایا اس نے اسے رُسوا و بدنام کیا۔[3]
دُرُست طریقے سے کی گئی نصیحت کی تاثیر
اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے اپنی کتاب قُوْتُ الْقُلُوب میں نصیحت کے مُتَعَلِّق جو کچھ نقْل فرمایا ہے، کچھ تصرّف کے ساتھ آپ کی خِدْمَت میں پیش ہے۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:نصیحت کا دُرُسْت طریقہ یہ ہے کہ جس کی خَیرخواہی مَقْصُود ہو اسے تنہائی میں نصیحت کیجئے، لوگوں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ کیجئے نہ کسی غیر کو اس کا عیب بتایئے، جیسا کہ ایک قول ہے: مومنوں کی نصیحتیں ان کے کانوں میں ہوتی ہیں۔ حضرت سَیِّدُنا جعفر بن بُرْقَان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: مجھے حضرت سَیِّدُنا میمون بن مِہْرَان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے فرمایا:میں جس بات کو ناپسند کرتا ہوں وہ میرے سامنے کہا کرو، کیونکہ کوئی شخص اپنے بھائی کا خَیرخواہ اس وَقْت ہی شُمار ہوتا ہے جب وہ اس کی ناپسندیدہ بات اس کے منہ پر کہدے۔[4]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!اگر کوئی آپ کو نصیحت کرے اور اس وجہ سے آپ کے دِل میں اس کی مَحبَّت بڑھےتو گویا آپ اس کو اپنی خیر خواہ سمجھتی ہیں اور اگر ناگواری مَحْسُوس کریں تو گویا آپ اسے اپنی خیر خواہی نہیں سمجھتیں۔
کسی بزرگ کا فرمان ہے کہ میرے نزدیک مَحْبُوب ترین وہ شخص ہے جو مجھے میرے عُیُوب سے آگاہ کرے۔ اسی طرح اَمیرُالْمومنین
[1] ترمذی، ابواب صفة القیامة والرقائق والورع، ۴۸-باب، ص ۵۹۲، حدیث:۲۵۰۵
[2] تنبیه الغافلین ، باب الامربالمعروف والنھی عن المنکر، ص۴۸
[3] احیاء علوم الدین، کتاب آداب الالفة والاخوة، الباب الثانی فی حقوق الاخوة والصحبة، الحق الرابع، ۲/۲۲۵ بتصرف
[4] قوت القلوب، الفصل الرابع و الاربعون فی الاخوة فی الله… الخ، ۲/۳۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع