30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے جو مُـخْتَصَر اور مُدَلَّل ہو)لوگوں کو یاد خوب رہتا ہے۔[1]
نصیحت کے غَلَط اور دُرُست طریقے
خوش طبعی میں مگن لوگوں کو وعظ کرنا
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!وَعْظ و نصیحت پر مبنی بیانات کرنا اگرچہ ایک اَچھّا کام ہے مگر اس حوالے سے حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عبّاس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی یہ نصیحت یاد رکھئے کہ میں تمہیں ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھوں کہ لوگ اپنی خوش طبعی کی باتوں میں مَصروف ہوں تو تم ان کی بات کاٹ کر اپنی تقریر شروع کر دو کہ وہ پریشان ہو کر رہ جائیں۔ بلکہ خاموشی اِخْتِیار کرو اور اگر وہ تم سے وَعْظ کرنے کو کہیں تو ہی کرو۔[2]
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:یہ ایک نصیحت ہے جس پر واعِظ کو کار بند رہنا چاہئے کہ جہاں لوگ کلام یا کام میں مَشْغُول ہوں تو ان کے کلام و کام بند نہ کردو۔ وَعْظ شروع نہ کردو کہ اس صُورَت میں اگرچہ وہ کچھ نہ کہیں مگر دِل میں تکلیف مَحْسُوس کریں گے، نیز اس میں عِلْم اور عالِم کی اِہانَت بھی ہے۔ اس سے وہ واعِظین عِبْرَت پکڑیں جو تیز لاؤڈ سپیکروں پر آدھی آدھی رات تک تقریریں کرکے مزدوروں، بیماروں کو پریشان کرتے ہیں، ساری بستی کو جگاتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ پھرعوام حُکُومَت کو درخواستیں دیتے ہیں جس پر دفعہ 144نافِذ کی جاتی ہے۔ کتنی بڑی ذِلَّت اور عِلْم کی توہین ہے، اگر یہ واعِظین اسی فرمان پر عَمَل کرتے تو یہ نَوبَت کیوں آتی۔ حُکّام اور افسران خود ان سے عِلْم سیکھنے ان کی خِدْمَت میں حاضِر ہوتے۔ [3]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!نصیحت اگرچہ کارِ ثواب ہے مگر وُہی نصیحت تاثیر کا تیر بن کر دوسروں کے دِلوں میں پیوست ہوتی ہے جس کا طریقہ دُرُسْت ہو، کیونکہ نصیحت سے جہاں نیکیاں کرنے کی رَغْبَت پیدا ہوتی ہے وُہیں دِلوں میں گناہوں سے نَفْرَت بھی پیدا ہوتی ہے۔ مگر یاد رکھئے! کسی کو اس کے گناہوں پر عار دِلاتے ہوئے نصیحت کرنا دُرُسْت نہیں۔جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا فُضَیل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مومِن پردہ پوشی اور نصیحت کرتا ہے جبکہ اس کے برعکس فاسِق وفاجِر بدنام کرتا اور شَرْم و عار دِلاتا ہے۔[4] اور کسی کو اس کے گناہوں پر عار دِلانے کے مُتَعَلِّق سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نِشان ہے:جو اپنے مسلمان بھائی کو اس کے (کسی ایسے) گناہ کے ذریعے عار دِلائے (جس سے وہ توبہ کر چکا ہو) تو وہ عار دِلانے والا اس وَقْت تک نہیں مرے گا جب تک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع