30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کو ہر جُمِعْرَات کو وَعْظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ ایک شخص نے عَرْض کی:اے ابو عبد الرحمٰن! میری خواہش ہے کہ آپ روزانہ وَعْظ ونصیحت فرمایا کریں۔تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا:مجھے ایسا کرنے سے جو چیز باز رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ میں تمہیں مَلال و اکتاہَٹ میں مبتلا کرنے کو ناپسند کرتا ہوں اور میں نصیحت کرنے میں تمہاری اس طرح حِفاظَت ورِعایَت کرتا ہوں جس طرح حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَلال و اکتاہَٹ کے خَدشے کے پیشِ نَظَر ہماری حِفاظَت فرماتے تھے۔[1] اسی طرح حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ لوگوں کو ہفتہ میں ایک بار وَعْظ سناؤ اگر زیادہ کی تَمنّا ہو تو دو۲بار اور اگر بَہُت زیادہ چاہو تو تین۳بار۔[2] اسی طرح اُمّ الْمُومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے ایک بار واعِظِ مدینہ حضرت سَیِّدُنا ابنِ ابی سائِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نصیحت کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا: لوگوں کو بروزِجُمُعَہ (یعنی ہفتہ میں) ایک بار وَعْظ سناؤ اگر زیادہ کی تَمنّا ہو تو دو۲باراور اگر بَہُت زیادہ چاہو تو تین۳بار۔[3]
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن مشکوٰۃ شریف میں حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَرْوِی اسی قِسْم کی ایک رِوایَت کی شَرْح میں فرماتے ہیں: روزانہ وَعْظ نہ سناؤ ہفتہ میں ایک یا دو۲یا تین۳بار سناؤ، پھر بھی اتنی دیر وَعْظ نہ کہو کہ لوگ سَیر ہو جائیں بلکہ ان کا شوق باقی ہو کہ ختْم کر دو سُبْحَانَ اللہ! کیا نفیس ٹریننگ ہے ان حضرات کی مجلسیں گویا نارمل اسکول بھی تھیں، جن میں سیکھنا سکھانا سب بتایا جاتا تھا۔اس سے بِلا ضَرورت چار۴چار۴گھنٹے وَعْظ کہنے والے واعِظین عِبْرَت پکڑیں۔ خَیال رہے کہ یہ اِرشَاد وہاں ہے جہاں لوگ اکتاتے ہوں لیکن اگر شائق ہیں تو نہ روز وَعْظ کرنا بُرا نہ دیر تک(کرنا بُرا، جیسا کہ)مدرسوں میں تعلیمِ قرآن کے درس روزانہ ہوتے ہیں۔ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ایک بار فجر سے مَغْرِب تک وَعْظ فرمایا، عالِم کو چاہئے کہ لوگوں کے شوق کا اندازہ رکھے۔[4]
وعظ میں طوالت اختیار کرنا کیسا؟
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!وَعْظ و نصیحت پر مبنی بیانات میں بے جا طَوَالَت سے بچئے اور ہمیشہ مُـخْتَصَر اور پُرمغز باتیں کیجئے اور دوسروں کی اکتاہٹ کا بھی خَیال رکھئے جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ ایک دن ایک شخص نے کھڑے ہو کر بَہُت باتیں کیں یعنی بَہُت لمبی تقریر کی جو نِہَایَت فصیح و بلیغ تھی تاکہ لوگ اس کے کمال کے قائل ہو جائیں، مگر لوگ اس کی دراز تقریر سے گھبرا گئے اور اکتاہٹ مَحْسُوس کرنے لگے، اس پر حضرت سَیِّدُنا عَمْرو بِن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:اگر یہ اپنے کلام میں اِخْتِصار کرتا تو اَچھّا ہوتا، میں نے رَحْمَتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا ہے کہ میں مُناسِب سمجھتا ہوں یا مجھے حکْم دیا گیا ہے کہ کلام میں اِخْتِصار کیا کروں کیونکہ مُـخْتَصَر کرنا بہتر ہے۔[5] یعنی ہر کلام میں خصوصًا وَعْظ و نصیحت میں اِخْتِصار مُفید اس کا اَثَر زیادہ ہوتا ہے، خَیْرُ الْـکَلَامِ مَاقَلَّ وَ دَلَّ(اَچھّا کلام وُہی
[1] بخاری ، کتاب العلم، باب من جعل لاھل العلم ایاما معلومة، ص۹۱، حدیث:۷۰
[2] بخاری، کتاب الدعوات، باب ما یکرہ من السجع ...الخ، ص۱۵۶۵، حدیث:۶۳۳۷
[3] مسند احمد، حدیث السیدةعائشة، ۱۰/ ۵۰۲، حدیث: ۲۶۵۷۱
[4] مراۃ المناجیح، علم کی کتاب، تیسری فصل، ۱/۲۱۷
[5] ابو داود، کتاب الادب، باب ماجاء فی المتشدق فی الکلام، ص۷۸۳، حدیث:۵۰۰۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع