30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4…)جب چھینکے اور اَلْـحَمْدُ لِلّٰه پڑھے تو (یَرْحَمُكَ الله کہہ کر)اسے جواب دو۔
(5…)جب وہ بیمار پڑے تو اس کی عِیادَت کرو۔
(6…)اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جَنازے کے ساتھ جاؤ۔[1]
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان حدیث کے اس جملے وَاِذَا اِسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهٗ کی شَرْح میں فرماتے ہیں:(جب)تم سے کوئی مشورہ کرے تو اَچھّا مشورہ دو، اگر شَرْعی مسئلہ پوچھے تو ضَرور بتاؤ۔ یعنی خالِص اَچھّی رائے دو جس میں بُرائی کا شائبہ نہ ہو۔[2]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!حضرت سَیِّدُنا شاہ عبد الحق مُحدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نصیحت کا حکْم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: نصیحت عام حالات میں سنّت ہے مگر جب کوئی نصیحت کی بات سننے کی خواہش ظاہِر کرے تو پھر اسے نصیحت کرنا واجِب و ضَروری ہے۔[3]اسی طرح پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت، بانیِ دَعْوَتِ اِسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد اِلیاس عطّار قادِری رَضَوی ضِیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ دَعْوَتِ اِسلامی کے اِشَاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مَطْبُوعَہ 616 صَفحات پر مُشْتَمِل کِتاب نیکی کی دعوت صَفْحَہ 395پر فرماتے ہیں:بے شک سنّتوں بھرا بیان کرنا کارِ ثواب اور بَہُت بڑی سَعَادَت کی بات ہے مگر یہ ذِہن میں رہے کہ وَعْظ ونصیحت پر مَبنی بیان کرنا مُستَحب کام ہے، اگر نہیں کیا تو کچھ گناہ نہیں مگر کسی کو گناہ کرتے دیکھا اور گمان غالِب ہے کہ اس کو بتائے گا تو باز آجائے گا تو کئی گھنٹوں کے بیان کے مُقابلے میں اُس کو گناہ سے مَنْع کرنے میں زیادہ ثواب ہے کیونکہ اب اُس کو مَنْع کرنا فَرْض ہے اور مَنْع نہ کرنے والا گناہ گار اور عَذابِ نار کا حَق دار ہے۔ جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1197صَفحات پر مُشْتَمِل کِتاب بہارِ شریعت جلد3 صَفْحَہ 615پر صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:اگر غالِب گمان یہ ہے کہ یہ اُن (بُرائی کرنے والوں)سے کہے گا تو وہ اِس کی بات مان لیں گے اور بُری بات سے باز آجائیں گے تو اَمْرٌ بِالْـمَعْرُوْف (یعنی اچّھائی کا حکْم کرنا)واجِب ہے، اِس(یعنی کسی کو بُرائی کرتا دیکھنے والے) کو(بُرائی سے مَنع کرنے سے)باز رَہنا جائز نہیں۔[4]
جو نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائے
میں دیتا ہوں اس کو دُعائے مدینہ[5]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
روزانہ وعظ و نصیحت پر مبنی بیان کرنا کیسا؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع