30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رَسولِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اِیمان لانا اور جو کچھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے لائے ہیں صِدْقِ دِل سے اس کو سچا ماننا ہر اُمَّتی پر فَرْضِ عَین ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بغیر رسول پر اِیمان لائے ہرگز کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔[1]
لہٰذا یاد رکھئے کہ مَحْض توحید و رِسَالَت کی گواہی کافی نہیں بلکہ کسی کا بھی اِیمان اس وَقْت تک کامِل نہیں ہو سکتا جب تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنی جان و مال بلکہ سب سے زیادہ مَحْبُوب نہ بنا لیا جائے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحْبُوب ، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : تم میں سے کوئی اس وَقْت تک (کامِل)مومِن نہیں ہو سکتا جب تک کہ مَیں اس کے نزدیک اس کے باپ اس کی اَولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر مَحْبُوب نہ ہو جاؤں۔[2]
خاک ہو کر عِشْق میں آرام سے سونا ملا
جان کی اِکسير ہے اُلْفَت رسولُ الله کی[3]
ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےتین۳ باتوں کو حَلاوَتِ اِیمانی کے حُصُول کی عَلامَت قرار دیا، جن میں ایک یہ ہے کہ بندے کی نَظَر میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات کائنات کی ہر چیز سے زیادہ مَحْبُوب وپسندیدہ ہوجائے۔[4]
یہ اِک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں
تیرے نام پر سب کو وَارا کروں میں[5]
(2) اتباعِ سنّتِ رسول
سرورِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ مُبارَکہ اور سنّتِ مُقَدَّسہ کی پَیروی ہر مسلمان پر واجِب و لازِم ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری ہے:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (۳۱) (پ۳، آل عمران: ۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤاللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اسی لیے آسمانِ اُمَّت کے چمکتے ہوئے سِتارے، ہِدَایَت کے چاند تارے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول کے پیارے صَحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہم و صَحابیات طیباترَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہر سنّتِ کریمہ کی پَیروی کو لازِم و ضَروری جانتے اور بال برابر بھی کسی مُعَامَلہ میں اپنے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں سے اِنحراف یا تَرْک گوارا نہیں کرتے تھے۔
یہ بھی ہر اُمَّتی پر رَسولِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حَق ہے کہ ہر اُمَّتی ہر حَال میں آپ کے ہر حکْم کی اِطَاعَت کرے اور آپ جس بات کا حکْم دیں بال کے کروڑویں حِصّے کے برابر بھی اس کی خِلاف ورزی کا تَصَوُّر نہ کرے کیونکہ آپ کی اِطَاعَت اور آپ کے اَحْکام کے آگے سرِ تسلیم خَم کر دینا ہر اُمَّتی پر فَرْضِ عین ہے۔ چنانچہ ارشادِ خُداوندی ہے:
اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ۵، النسآء: ۵۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع