30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْہ تھامے ہوئے تھے، انہوں نے (اپنی والِدہ کو یوں بارگاہِ رِسَالَت میں آتے دیکھا تو)عَرْض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ میری ماں ہیں۔ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں خوش آمدید کہا۔ پھر اُمّ سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا مزید قریب ہوئیں تو ٹکٹکی باندھے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دِیدار کی دولت سے اپنی نِگاہوں کو مالا مال کرنے لگیں اور پھر یوں عَرْض گزار ہوئیں:اے اللہ کے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کو سَلامَت دیکھ کر میرے دِل کو جو سُرور مِلا ہے اس نے ساری مصیبتوں کومیرے لیے چھوٹا بنا دیا ہے۔[1]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!عِشْقِ رسول کا تقاضا یہ ہے کہ اَحْکامِ بارِی و مَحْبُوبِ بارِی تعالیٰ کو غور سے سنئے اور ان پر عَمَل کیجئے۔ جیسا کہ آپ کو پردے میں رہنے کا حکْم دیا گیا ہےتو آپ پر لازِم ہے کہ پردہ میں رہا کریں اور اپنے شوہَر اور آباؤ اَجداد کی عزّت و عَظَمَت اور ناموس کو برباد مَت کیجئے۔ یہ دنیا کی چند روزہ زِنْدَگی فانی ہے۔ یاد رکھئے! ایک دِن مَرنا ہے اور پھر قِیامَت کے دِن بارگاہِ خدا و مصطفےٰ میں منہ بھی دِکھانا ہے۔ قَبْر وجہنّم کے عَذاب کو یاد کیجئے اور سَیِّدہ خاتونِ جنّت و اُمَّہَاتُ المومنین اور دیگر صحابیات رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِنَّ اَجْمَعِیْن کے نَقْشِ قَدَم پرچل کر اپنی دنیا و آخِرَت کو سنواریئے اور غیر مُسْلِم عورتوں کے طریقوں پر چلنا چھوڑ دیجئے۔
اس کے عِلاوہ سرورِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ وَالِہانہ عقیدت اور اِیمانی مَحبَّت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وَالِدَین اور تمام آباؤ اَجداد بلکہ تمام رشتہ داروں کے اَدَب واِحْتِرام کا اِلْتِزام رکھا جائے۔ بجز ان رشتہ داروں کے جن کا کافِر اور جہنمی ہونا قرآن و حدیث سے یقینی طور پر ثابِت ہے۔ جیسے ابو لہب اور اس کی بیوی حمالۃ الحطب، باقی تمام قرابت والوں کا اَدَب مَلْحُوظِ خاطِر رکھنا لازِم ہے کیونکہ جن لوگوں کو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِسْبَتِ قرابت حاصِل ہے ان کی بے اَدَبی و گستاخی یقیناً آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِیذا رَسانی کا باعِث ہو گی جو کہ مَـمْنُوع ہے جیساکہ قرآن کریم میں ہے کہ جو لوگ اللہعَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اِیذا دیتے ہیں وہ دنیا و آخِرَت میں مَلْعُون ہیں۔[2]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!مَحْبُوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی اُمَّت کی ہِدَایَت و اِصلاح اور فلاح کے لیے بے شُمار تکالیف بَرْدَاشْت فرمائیں،نیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اپنی اُمَّت کی نجات ومَغْفِرَت کی فِکْر اور اس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شَفْقَت و رَحْمَت کی اس کَیْفِیَّت پر قرآن بھی شاہِد ہے۔ چنانچہ اِرشَاد ہوتا ہے:
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (۱۲۸) (پ۱۱، التوبة: ۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پرتمہارا مَشَقَّت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مِہربان۔
مَحْبُوبِ باری صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پوری پوری راتیں جاگ کر عِبَادَت میں مَصروف رہتے اور اُمَّت کی مَغْفِرَت کے لیے دربارِ باری میں اِنْتِہائی بے قَراری کے ساتھ گِریہ و زَاری فرماتے رہتے۔ یہاں تک کہ کھڑے کھڑے اَکْثَر آپ کے پائے مُبارَک پر وَرَم آ جاتا تھا۔چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی اُمَّت کے لیے جو مشقتیں اُٹھائیں ان کا تقاضا ہے کہ اُمَّت پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کچھ حُقُوق ہیں جن کو اَدا کرنا ہر اُمَّتی پر فَرْض و واجِب ہے۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنا علّامہ قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے دَرْج ذَیل آٹھ حُقُوق اپنی کتاب شِفا شریف میں تفصیل سے بیان فرمائے ہیں:
(۱)اِیمان بالرسول (۲) اتّباع ِسنتِ رَسول (۳)اِطَاعَتِ رَسول
(۴)مَحَبَّتِ رَسول (۵)تعظیم ِرَسول (۶)مدحِ رَسول
(۷)دُرُود شریف (۸)قَبْرِ اَنْوَر کی زِیَارَت
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!آئیے!صَحابیات طیبات رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُنَّ کی سِیْرَت کی روشنی میں اِن حُقُوق کا مُـخْتَصَر جائزہ لیتی ہیں۔ چنانچہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع