30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی شَہادَت کی خَبَر ملی مگر اس نے کوئی پَروا نہیں کی اور لوگوں سے یہی پوچھتی رہی کہ یہ بتاؤ ! میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیسے ہیں؟ جب اسے بتایا گیا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!آپ ہر طرح بخیریت ہیں توبھی اس بڑھیا کی تَسَلّی نہیں ہوئی اور کہنے لگی :تم لوگ مجھے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دِیدار کرا دو۔ جب لوگوں نے اس کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب لے جا کر کھڑا کر دیا اور اس نے جَمال ِ نُبوت کو دیکھا تو بے اِخْتِیار اس کی زبان سے یہ جُملہ نِکَل پڑا:کُلُّ مُصِیْبَةٍ بَعْدَكَ جَلَلٌ آپ کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت ہیچ ہے۔
بڑھ کر اُس نے رُخِ اَنْوَر کو جو دیکھا تو کہا!
تو سَلامَت ہے تو پھر ہیچ ہیں سب رَنْج و اَلَم
میں بھی اور باپ بھی شوہَر بھی بَرادَر بھی فِدا
اے شہہ دیں!تِرے ہوتے کیا چیز ہیں ہم[1]
سرکار کی سلامتی پر سب کچھ قربان
اسی طرح کی ایک رِوایَت میں ہے کہ عِشْقِ رسول سے سرشار ایک اَنصاری صَحابیہ جب گھر سے نِکَل کر میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوئیں تو راستے میں انہیں دِل لرزا دینے والے مَناظِر کا سامنا کرنا پڑا، کہیں بھائی اور بیٹےکے لاشے کو دیکھا تو کہیں شوہَر اور باپ کی مَیِّت پڑی دیکھی مگر وہ عاشِقہ صَحابیہ بغیر پروا کیے آگے بڑھتی جاتیں اور یہی پوچھتی جاتیں: میرے مَحْبُوب، میرے آقا و مولا کیسے ہیں؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےبخیرو عَافِـیَّت ہونے کی خَبَر ملنے کے باوُجُود وہ رُکی نہیں بلکہ آگے بڑھتی گئیں اور آخِر کار جب رُخِ اَنْوَر پر نَظَر پڑی تو بے قَرار ہو کر فَرْطِ مَحبَّت میں دامَنِ مصطفےٰ کو تھام لیا اور عَرْض کرنے لگیں: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان !جب آپ سَلامَت ہیں تو مجھے کسی اور کی کوئی پروا نہیں ہے۔ [2]
تسلی ہے پناہِ بیکساں زِندہ سَلامَت ہے
کوئی پَروا نہیں سارا جَہاں زندہ سَلامَت ہے[3]
دیدارِ سرکار کی خوشی میں رونا بھول گئیں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!یہ تین۳ واقعات ان صحابیات کے تھے جو شیطانی اَفواہ سن کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور گھروں سے نِکَل پڑیں مگر جن صَحابیات کے جذبات قابو میں تھے اور وہ گھروں سے نہ نکلیں،ان کے دِلوں کو بھی قرار نہ تھا، لہٰذا جب انہیں مَعْلُوم ہوا کہ میدانِ اُحد سے واپَسی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحْبُوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی بستی سے گزر رہے ہیں تو گھروں میں اپنے شُہَدا کے لاشوں پر رونے والی یہ صَحابیات دُکھی دِلوں کے چین، سَرْوَرِ کونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے قرار ہوکرباہَر نِکَل پڑیں۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنا عامِر اَشْہَلِیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: جب ہمیں سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد کی خَبَر ملی تو اس وقْت ہم اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں،چنانچہ ہم رونا چھوڑ کر سب کی سب باہَر نِکَل آئیں اور جب میں نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا تو بے ساختہ میری زبان سے یہ اَلفاظ جارِی ہوگئے: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ کے ہوتے ہر مصیبت ہیچ ہے۔ [4]
حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَعْد کَبْشَہ بِنْت رَافِع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو جب حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد کی خَبَر ہوئی تو آپ دوڑتی ہوئی بارگاہِ رِسَالَت میں پہنچیں ، اس وَقْت حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے گھوڑے پر جَلْوَہ گَر تھے جس کی لگام آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے بیٹے حضرت سَیِّدُنا سَعْد بن مُعاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع