30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نبی کی ذات پر جب جھک پڑے اِیمان کے دشمن ہوئے اس زِنْدَگیِ بَخْشِ جَہاں کی جان کے دشمن
اسی شَمْعِ ہُدیٰ پر جب پَلَٹ کر آ گئی آندھی تو اس بی بی نے رَکھ دی مَشک، چادَر سے کمر باندھی
تھے اسکے شوہَر و فَرْزَند بھی مَصروفِ جَاں بازی رسولُ اللہ پر قُربان تھے اللہ کے غازِی
ہوئی یہ شیر زَن بھی اب قِتال و جنگ میں شامِل سِپَر بن کر لگی پھرنے وہ گِردِ ہادِیٔ کامِل
یہ اپنی جان پر ہر زَخْم دامَن گیر لیتی تھی کوئی حِرْبَہ وُجُودِ پاک تک آنے نہ دیتی تھی
نَظَر آئی نئی صُورَت جو حِرْزِ جَانِ پیغمبر کیا اِک لَخْت بڑھ کر حملہ ایک بَد کیش نے اس پر
نہتی تھی مگر کرنے لگی پیکار دشمن سے مَروڑا اس کا بازو چھین لی تلوار دشمن سے
اسی شمشیر سے اس نے سرِ شمشیرزَن کاٹا ہوا اس شیر زَن کے خوف سے اَعْدَا میں سنّاٹا
جِدَھر بڑھتے ہوئے پاتی تھی وہ مَحْبُوبِ باری کو پہنچتی تھی وہیں اُمِّ عمّارہ جَاں نِثاری کو
سَر و گردن پہ اس بی بی نے تیرہ زَخْم کھائے تھے مگر میدان سے اس کے قَدَم ہٹنے نہ پائے تھے
یہ اُٹھی تھی نَمازِ صُبْح کو تَاروں کے سائے میں نَمازِ ظُہر تک قائم تھی تلواروں کے سائے میں
یہی مائیں ہیں جن کی گود میں اِسلام پلتا ہے
اسی غیرت سے اِنساں نُور کے سانچے میں ڈھلتاہے [1]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!آخِر وہ کون سا جذبہ تھا جس کے تحت حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عمّارہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا پروانوں کی طرح شَمْعِ رِسَالَت پر اپنی جان نِثار کرنے کے لیے تیّار ہو گئیں۔ یہ کوئی حیرانی اور اچنبھے کی بات نہیں، کیونکہ یہی وہ جذبہ تھا جس نے حضرت سَیِّدُنا بلال حبشی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو صحرا کی تپتی ریت پر سینے پر پڑی بھاری چٹان تلے دبے ہوئے بھی الاحد الاحد کی صَدائے دِل نواز بُلَند کرنے کا حَوصِلہ دیا اور یہی وہ جذبہ تھا جسے حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عمّار بن یاسِر رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر پروان چڑھایا ۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!اس جذبے کو ہم مَحبَّت کہتے ہیں۔ مَحبَّت آخِر کیا چیز ہے کہ بندہ اپنے مَحْبُوب پر سب کچھ وَار دینے کے لیے تیّار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا یہ جاننا
بَہُت ضَروری ہے کہ مَحبَّت کسے کہتے ہیں؟ چنانچہ اِمام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالوَالِی اس کے مُتَعَلِّق مُکَاشَفَۃُ الْقُلُوب میں فرماتے ہیں کہ مَحبَّت اس کَیْفِیَّت اور جذبے کا نام ہے جو کسی پسندیدہ شے کی طرف طبیعت کے مَیلان کو ظاہِر کرتا ہے، اگر یہ مَیلان شِدّت اِخْتِیار کر جائے تو اسے عِشْق کہتے ہیں۔ اس میں زِیادَتی ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ عاشِق مَحْبُوب کا بندۂ بے دَام بن جاتا ہےاور مال ودولت (یہاں تک کہ جان تک)اس پر قربان کر دیتا ہے۔[2]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!بلاشُبہ مَحبَّتِ خدا و رسول ایک نِعْمَت ہے، جن کے دل اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحبَّت سے سرشار ہوتے ہیں ان کی رُوْح بھی اس کی مِٹھاس مَحْسُوس کرتی ہے، ان کی زِنْدَگیاں جہاں اس پاکیزہ مَحبَّت سے سَنْوَرْتی ہیں وہیں یہ مَحبَّت تاریکی میں اُمِّید کا چراغ بن کر انہیں راہِ حَق سے بھٹکنے سے بھی بچاتی ہے، مگر یاد رکھئے! مَحبَّت اور عِشْق کے معنیٰ و مَفہوم میں قَدرے فَرْق ہے۔ کیونکہ اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحبَّت تو ہر مسلمان کرتا ہے مگر عاشِق کا دَرجہ کوئی کوئی پاتا ہے۔چنانچہ ابو فضل اِبْنِ مَنْظُور اَفریقی لسانُ العرب میں عِشْق کا مَطْلَب بیان کرتے ہوئے فرماتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع