30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے مُتَعَلّق مَرْوِی ہے کہ جب آپ اَسِیرِ گَیْسُوئے مصطفےٰ ہوئیں تو کفّار بَداَطْوَار نے آپ پر ظُلْم و سِتَم کی حَد کر دی مگر آپ نے اپنے دِل میں فَروزاں (روشن)عِشْقِ رَسول کی شَمْع کو ظلمتوں کی آندھیوں سے بجھنے نہ دیا اور موت کا اَبَدِی جام نوش فرما لیا۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا اِبنِ اسحاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرَّ زَّاق فرماتے ہیں: مجھے آلِ عمّار بِن یاسِر کے لوگوں نے بتایا کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا سُـمَیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو آل ِبنو مُغِیرہ اِسلام لانے کی وجہ سے اِیذائیں دیتے تھے تاکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِنکار کر دیں ، مگر آپ ان کے باطِل معبودوں کا اِنکار کرتی رہیں یہاں تک کہ انہوں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو شہید کر دیا۔ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عمَّار، ان کی والِدہ اور ان کے والِد کو مکۂ مکرّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے تپتے صحرا میں مَقامِ اَبْطَح پر اِیذائیں پاتے دیکھتے تو اِرشَاد فرماتے: اے آلِ یاسِر! صَبْر کرو! تمہارے لیے جنّت کا وعدہ ہے۔[1] حضرتِ سُـمَیَّہ بِنت خُبَّاطرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے مَظْلُومَانہ شَہادَت کے عِلاوہ اور بھی سختیاں جھیلی تھیں،مثلاً ان کو لوہے کی زِرہ پہنا کر سَخْت دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا تاکہ دھوپ کی گرمی سے لوہا تپنے لگے۔ یہاں تک کہ انہوں نے سب سے بڑے دُشْمَنِ اِسلام ابو جہل کے ہاتھوں شَہادَت کو قُبول کر لیا مگر اِسلام سے منہ نہ موڑا۔[2]
نویں علامت: تبرکات مقدسہ کی تعظیم
جن چیزوں اور لوگوں کو سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِسْبَت و تعلّق حاصِل ہے ان سب سے مَحبَّت کی جائے اور ان کا اَدَب واِحْتِرام مَلْحُوظِ خاطِر رکھا جائے۔ یعنی صَحابہ کِرام، اَزْوَاجِ مُطَہِّرَات،اَہْلِ بَیْت اَطْہَار رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن،شہر مدینہ،قَبْرِ اَنْوَر،مَسْجِد نبوی، آپ کے آثارِ شریفہ ومَشَاہِدِ مُقَدِّسَہ، قرآن مجید و احادیث مُبارَکہ وغیرہ سب کی تعظیم و توقیر اور ان کا اَدَب و اِحْتِرام کیا جائے۔[3]جیسا کہ ایک صَحابیہ حضرت سَیِّدَتُنا کَبْشَہ اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہا کے گھر خا تمُ المُرسَلین، جنابِ صادِق واَمین صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّم تشریف لے گئے اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے ہاں مَوجُود مشکیزہ سے منہ لگا کر پانی نوش فرمایا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں: میں نے اُس مَشْک کا منہ کاٹ کر (بطورِ تَبَرُّک)اپنے پاس رکھ لیا۔[4]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!حضرت سَیِّدَتُنا کَبْشہ اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی مَحبَّتِ مصطفےٰ کے کیا کہنے!یہ صِرف آپ ہی نہیں جنہوں نے اللہعَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِسْبَت رکھنے والی چیزوں کو اپنے پاس بَطَورِ تَبَرُّک رکھ لیا تھا۔ بلکہ کئی صَحابیات ایسی ہیں جنہوں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِسْبَت رکھنے والی چیزوں کو ساری زِنْدَگی اپنا مَتاعِ حَیات جان کر سینے سے لگائے رکھا۔ جیسا کہ حُدَیبِیَّہ کے مَقام پر تاجدارِ رِسَالَت، شہنشاہِ نُبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بال مُبارَک بنوائے تو وہ تمام مُوئے مبارَک ایک سبز دَرَخْت پر ڈال دئیےگئے، جہاں سے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بَطَورِ تَبَرُّک انہیں اپنے پاس رکھ لیا۔ چنانچہ حضرت سیِّدتُنا اُمِ عمَّارہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نے بھی چند بال حاصِل کیے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصالِ ظاہِری کے بعد جب کوئی بیمار ہوتا تو میں اُن مُبارَک بالوں کو پانی میں ڈبو کر پانی مریض کو پلاتی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے صِحَّت یاب فرما دیتا۔[5]
غزوۂ خیبر میں رَسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبیلہ بنی غفّار کی ایک صَحابیہ کو اپنے دَسْتِ مُبارَک سے ایک ہار پہنایا تھا۔ وہ اس کی اتنی قَدْر کرتی تھیں کہ عمر بھر گلے سے جُدا نہ کیا اور جب اِنْتِقَال فرمانے لگیں تو وَصیَّت کی کہ ہار بھی ان کے ساتھ دَفْن کیا جائے۔[6]
سرکار کے پسینے سے صحابیات کی محبت
خادِمِ رَسول حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: حُضُور خا تمُ المُرسَلین،جنابِ صادِق واَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے یہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع