30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُمُور کو نفسانی خواہشات پر مبنی اُمُور پر ترجیح دی جائے۔یعنی جس بات کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مَشْرُوع فرمایا اور اس پر عَمَل کی ترغیب و تَنْبِیْہ فرمائی ہو اس سے راضی رہا جائے اور اسے اپنی نفسانی و شہوانی خواہشات پر اس طرح ترجیح دی جائے کہ دِل میں کوئی تنگی مَحْسُوس نہ ہو۔ جیسا کہ اِرْشَادِ باری تعالیٰ ہے:
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (۶۵) (پ۵، النسآء: ۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اے مَحْبُوب تمہارے رب کی قَسَم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپَس کے جھگڑے میں تمہیں حاکِم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکْم فرما دو اپنے دِلوں میں اس سے رُکاوَٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔
مَعْلُوم ہوا کہ جو شخص حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فیصلے سے دِل میں تنگی مَحْسُوس کرے اور اسے تسلیم نہ کرے اس کا اِیمان سَلْب کر لیا جاتا ہے۔ نیز حضرت سَیِّدُنا تاجُ الدِّین بن عطاء اللّٰه شاذِلی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْوَلِی فرماتے ہیں کہ آیَتِ مُبارَکہ میں اس بات پر دَلَالَت ہے کہ حقیقی اِیمان اسی شخص کو حاصِل ہوتا ہے جو قول وفعل، عَمَل کرنے و تَرْک کرنے اور مَحبَّت و بُغْض ہر اِعْتِبَار سے اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکْم مانے۔ مزید فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان لوگوں سے جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فیصلے کو نہیں مانتے یا مانتے ہیں لیکن دِل میں حَرَج بھی مَحْسُوس کرتے ہیں، صِرف اِیمان کی نفی نہیں کی بلکہ اس پر اُس رَبُوبِیَّت کی قَسَم بھی یاد فرمائی ہے جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ خاص ہے۔ [1]
حضرت سَیِّدَتُنا اَسماء بنت یزید اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بڑی عَقْل مند اور بَہَادُر صَحابیہ تھیں،آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جنگ یرموک میں نو۹ کافِروں کو خیمے کی لکڑی سے واصِلِ جہنّم کر دیا تھا۔[2] آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ جب میں بارگاہِ رِسَالَت میں بَـیْعَت کے لئے حاضِر ہوئی تو اس وَقْت میں نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے۔ جب قریب پہنچی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی چمک دیکھ کر اِرشَاد فرمایا:اے اَسْماء!اِنہیں اُتار کر پھینک دو! کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ (اگر تم نے ان کی زکوٰۃ اَدا نہ کی تو بَروزِ قِیامَت) اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے گا۔ (فرماتی ہیں )میں نے فوراً کنگن اُتار کر پھینک دیئے اور مَعْلُوم نہیں انہیں کِس نے اُٹھایا؟ [3]
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ !پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!بلاشبہ حکْمِ سرکار پر سرِ تسلیم خم کرنے کی یہ ایک اَعلیٰ مِثال ہے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دَہْنِ مُبارَک سے حکْم اِرشَاد ہوتے ہی حضرت سَیِّدَتُنا اَسماء بنت یزید اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے کنگن اُتار کر پھینک دئیے اور پھر پَلَٹ کر یہ بھی نہ دیکھا کہ انہیں کس نے اُٹھایا ہے۔ یہ صِرف آپ ہی نہیں تھیں کہ جنہوں نے ایسا کیا بلکہ صحابیات طیبات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی حیاتِ طیبہ میں ایسی مِثالیں بَہُت زیادہ ہیں کہ انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کے بَرعکس حکْمِ سرکار پر بغیر کسی لیت ولَعْل (ٹال مٹول، عُذْر، بہانے) کے فوراً عَمَل کر کے دِکھایا۔جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مَرْوِی ہے کہ جب پردے کا حکْم نازِل ہوا تو صحابیات طیبات نے اپنی چادروں اور تہہ بندوں کو پھاڑ کر دوپٹے بنا لیے۔[4]
حکم سرکار بجا لانے کی ایک اور مثال
حضرت سَیِّدُنا بَرزَہ اَسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا جُلَیْبِیْب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک خوش مِزاج شخص تھے ،مگر ان کی ایک عادت ایسی تھی جو مجھے پسند نہ تھی۔ لہٰذا میں نے اپنے گھر والوں کو سختی سے مَنْع کر دیا کہ آج کے بعد وہ تمہارے پاس نہ آئیں۔ (ان دِنوں)اَنصار کا چونکہ یہ مَعْمُول تھا کہ کسی لڑکی کی شادی اس وَقْت تک نہ کرتے جب تک یہ مَعْلُوم نہ کرلیتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی کو اِس کے رشتے میں دلچسپی ہے یا نہیں؟ چنانچہ ایک مرتبہ جب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع