30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہی لگے کہ دیہات کی طرف جا رہی ہیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے عِشْقِ سَرْوَر کے کیا کہنے! آپ راستے سے آگاہ تھیں نہ راستے کی مشکلات سے بخوبی واقِف تھیں۔ بس رُخ سُوئے مدینہ کیا اور پیدل ہی چل پڑیں۔[1]
ان کے در پہ موت آجائے تو جی جاؤں حسن
ان کے در سے دور رہ کے زِنْدَگی اَچھّی نہیں[2]
ابھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کچھ دُور ہی گئی تھیں کہ کَرَم ہوا اور تائیدِ غیبی نے کچھ یوں دستگیری فرمائی کہ قبیلہ بنی خُزاعہ کا ایک شخص راستے میں آپ کو ملا، جس نے ایک باپردہ مسلمان خاتون کو یوں سُوئے طَیبہ عازِمِ سَفَر دیکھ کر گوارا نہ کیا کہ وہ اکیلی اس قَدْر طویل سَفَر تنہا اور پیدل کریں۔ چنانچہ اس نے اپنا اُونْٹ پیش کیا اور اس طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا عِشْق و مستی سے سَرشار جذبات لے کر مَنْزِلُوں پہ مَنْزِلیں طے کرتی آخِر دَرِ رَسول پر جا پہنچیں۔ [3]
آستانہ پہ تیرے سر ہو اَجَل آئی ہو اور اے جانِ جَہاں تو بھی تماشائی ہو[4]
پانچویں علامت: جان و مال کی قربانی
عِشْقِ مصطفےٰ میں جان و مال کی قربانی پیش کرنا پڑے تو قطعی طور پر دریغ نہ کیا جائے بلکہ ہر اس واسطے و ذریعے کو خَتْم کر دیا جائے جو حُصُولِ رَضا و قُرْبِ مصطفےٰ سے مانِع ہو [5] اور اس نِدائے پُر مَسَرَّت پر یقین رکھا جائے کہ
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جَہاں چیز ہے کیا لوح و قَلَم تیرے ہیں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!صَحابیات طیبات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ ہمیشہ راہِ خُداومصطفےٰ میں اپنے تَن مَن دھن کو قُربان کرنے کے لیے تیّار رہتیں اور اس سلسلے میں کبھی کسی کی پَروا نہ کرتیں۔ کیونکہ وہ سمجھتی تھیں:
نِگاہِ عِشْق و مستی میں وُہی اَوّل ، وُہی آخِر
وُہی قرآں ، وُہی فُرقاں ، وُہی یٰسیں ، وُہی طٰہ
یہی وجہ ہے کہ جب اُمُّ الْمُومنین حضرت سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اُمَرا و رَؤسائے قُریش پر سرورِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نِکاح کو ترجیح دی تو بعض لوگوں نے اسے مَعْیُوب جانا اور چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ جب آپ کو مَعْلُوم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے تمام رَؤُسَائے مکّہ کو حَرَم شریف میں بُلایا اور انہیں گواہ بنا کر اپنا سارا مال مَحْبُوبِ رَبِّ دَاوَر، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں پر نچھاوَر کر دیا۔[6] اس کی تائید اُس حدیثِ پاک سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے اِرشَاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَسَم!خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی، جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کُفْر کیا اس وَقْت وہ مجھ پر اِیمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وَقْت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وَقْت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لیے تیّار نہ تھا اس وَقْت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دے دیا اور انہیں کے شِکَمْ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اَولاد عَطا فرمائی۔[7]
حضرت سَیِّدُنا اِمام احمد بن محمد قَسْطَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی اَلْـمَوَاھِبُ اللَّدُنِّـیَّه میں فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب بخشنے والے
[1] پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! اس واقعہ سے کسی کے ذِہْن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ عورت کو بغیر مَحْرَم کے تین۳ دن یا زیادہ ، بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی ناجائز ہے۔ (بہارِ شریعت، ۱ / ۷۵۲) تو پھر حضرت سَیِّدَتُنا ام کلثوم رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کی طرف ہجرت کا سَفَر تنہا اور بغیر کسی مَحْرَم کے کیوں کیا؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اس مُمانَعَت کے حکْم سے مُہاجِرہ اور کفّار کی قید سے چھوٹنے والی عورت خارِج ہے کہ یہ دونوں عورتیں بغیر مَحرم اکیلی ہی دارُ السلام کی طرف سَفَر کر سکتی ہیں بلکہ یہ سَفَر ان پر واجِب ہے۔ (مراۃ المناجیح، ۴ / ۹۰)
[2] ذوق نعت، ص۱۳۳
3 صفة الصفوة،ذكر المصطفيات من طبقات الصحابيات،ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط، المجلد الاول، ۲ / ۳۹ ملخصاً
[4] ذوق نعت، ص ۱۴۵
[5] قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون، ذکر احکام المحبة الخ، ۲ / ۸۹
[6] نزهة المجالس، باب مناقب فی امھات المومنین، الجز الثانی، ص ۳۹۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع