30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَحْبُوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں پر عَمَل کی سراپا مِثال تھیں، انہوں نے کبھی بھی کسی بھی حال میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کسی حکْم پر عَمَل سے منہ موڑا نہ اس سلسلے میں کبھی کسی رِشتے کو کوئی اَہَمِیَّت دی۔ جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سیِّدَتُنا اُمّ حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے والِد ماجِد حضرت سَیِّدُنا ابو سُفیان رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ کے اِنتقَال فرمانے کے بعد اور اُمُّ الْمُومنین حضرت سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے بھائی کے وِصال کے (تین۳ دن)بعد خوشبو لگائی اور اِرشَاد فرمایا: خُدا کی قَسَم! مجھے اس کی ضَرورت نہ تھی مگر میں نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا ہے کہ جو عورت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور یومِ آخِرَت پر اِیمان رکھتی ہے اس کے لیے حَلال نہیں کہ وہ کسی کے مَرنے کا سوگ تین۳ راتوں سے زیادہ کرے۔ سِوائے شوہَر کے،کہ اس کے سوگ کی مُدَّت چار۴ ماہ دس دِن ہے۔[1]اسی طرح مَرْوِی ہے کہ ایک بار اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی خِدْمَت سراپا غیرت میں آپ کے بھائی حضرت سَیِّدُنا عبدُ الرَّحمٰن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی حضرت سَیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا حاضِر ہوئیں جنہوں نے سر پر بارِیک دوپٹّا اَوڑھا ہوا تھا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اس دوپٹّے کو (شرعاً مَـمْنُوع ہونے کی وجہ سے)پھاڑ کر انہیں موٹا دوپٹّا اوڑھا دیا۔[2]
چوتھی علامت: قُرْبِ محبوب کی کوشش
مَحبَّتِ مصطفےٰ کے باعِث ہر شے سے ناطہ توڑ کر اس طرح سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بن جائیے کہ ان کے سِوا کہیں سُکُون ملے نہ چین، بلکہ بارگاہِ حبیب میں ہی دِل کو اِطمینان حاصِل ہو یعنی فِکْر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قُرْب کے حُصُول میں مگن رہے تو نَظَر میں ہمیشہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جَلْوے سمائے ہوں۔نہ اِس پَل چَین آئے نہ اُس پَل قَرار آئے۔[3] جیسا کہ شَرْم وحَیا کے پیکر اَمیرُ الْمُومنین حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اَخیافی (یعنی ماں جائی) بہن حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مُتَعَلّق مَرْوِی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا شُمار بھی ان خوش بختوں میں ہوتا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مدینہ شریف ہجرت فرمانے سے پہلے پہلے دامَنِ مصطفےٰ سے وَابَسْتہ ہو کر اَسِیرِ گیسوئے مصطفےٰ تو ہو گئے تھے مگر کسی وجہ سے ہجرت نہ کر سکے اور یوں ان کی نِگاہیں صُبْح و شام دِیدارِ مصطفےٰ کی لذّتوں سے مَحْرُوم ہوگئیں۔ دُکھی دِلوں کے چَین ، سَروَرِ کونَین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نِگاہوں سے اَوجھل ہونے نے ان کے دِلوں میں فِراق و جُدائی کی وہ آگ بھڑکائی کہ مَوْقَع ملتے ہی یہ لوگ آہستہ آہستہ سُوئے مَقامِ مصطفےٰ روانہ ہونے لگے۔
کرے چارہ سازی زِیَارَت کسی کی بھرے زَخْم دِل کے مَلاحَت کسی کی
چمک کر یہ کہتی ہے طَلْعَت کسی کی کہ دِیدارِ حَق ہے زِیَارَت کسی کی[4]
حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے دِل و دِماغ عِشْق و مَحبَّتِ مصطفےٰ کی آگ میں خَاکِسْتَر ہوئے جا رہے تھے تو آنکھیں محبوبِ خُدا کے دِیدار کے لیے بے قَرار تھیں، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بھی ہر دَم سُوئے مصطفےٰ روانگی کے لیے کسی مَوْقَع کی تلاش میں تھیں،آخِر جب دِلِ مُضْطَر (بے چین دِل)پر قابو نہ رہا تو درِ حبیب پر حاضِری کے لیے عَجَب حیلہ سے کام لیا۔ اُدھر حالات بھی کافی سازگار تھے کیونکہ صُلْح حُدَیْبِیَّہ کے بعد اہلِ مکّہ کو یہ اِطمینان ہو چکا تھا کہ اب اگر کسی نے ہجرت کی بھی تو اسے واپَس لے آیا جائے گا، لہٰذا ان کی اس بے فِکْری کے باعِث سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو گھر سے باہَر نکلنے کا مَوْقَع مل گیا اور انہوں نے اس
سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کا سوچا اور سب سے پہلے وہ مکّہ مکرمہ کے قریب ہی واقِع ایک بستی میں اپنے چند رشتہ داروں کے ہاں گئیں اور تین۳چار۴ دِن قِیام کے بعد واپَس لَوٹ آئیں تاکہ گھر والوں کو شک نہ ہو اور ان کا دوبارہ دیہات جانا انہیں ناگوار نہ گزرے۔ واپسی کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ گھرکے حالات سازگار ہیں اور ان کا دیہات جانا کسی کو مَعْیُوب نہیں لگا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے سُوئے مدینہ رَخْتِ سَفَر باندھا اور تَن تَنْہا گھر سے اس انداز میں روانہ ہوئیں کہ سب کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع