30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ مَحْبُوبِیَّت کا کیا کہنا؟ ایک حقیر و ذلیل بندۂ خُدا کے پیغمبر جمیل کی بارگاہِ عَظَمَت میں دُرُود شریف کا ہدیہ بھیجتا ہے تو خُداوند جلیل اس کے بَدْلے میں اس بندے پر رحمتیں نازِل فرماتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ دُرُود شریف پڑھنے کی توفیق عَطا فرمائے۔ (آمین)
صَدْرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی بہارِ شَریعَت میں فرماتے ہیں کہ زیارتِ اَقْدَس قریب بواجِب ہے۔[1] جبکہ شیخ الحدیث حضرت عَلّامہ عبد المصطفےٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی سیرتِ مصطفٰے میں فرماتے ہیں کہ حُضُورِ اَقْدَس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے روضَۂ مُقدسہ کی زِیَارَت سُنّتِ مُؤکدّہ قریب واجِب ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (۶۴) (پ۵، النسآء: ۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراگر جب وہ اپنی جانوں پر ظُلْم کریں تو اے مَحْبُوب تمہارے حُضُور حاضِر ہوں اور پھر اللہ سے مُعافی چاہیں اور رسول ان کی شَفَاعَت فرمائے تو ضَرور اللہ کو بَہُت توبہ قُبول کرنے والا مِہربان پائیں۔
مزید فرماتے ہیں کہ اس آیَت میں گناہ گاروں کے گناہ کی بَـخْشِشْ کے لیے اَرْحَمُ الرَّاحِمِین نے تین۳ شرطیں لگائی ہیں: اَوَّل دربارِ رسول میں حاضِری۔ دُوَم اِسْتِغْفار۔ سِوُم رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دُعائے مَغْفِرَت۔یہ حکْم حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہِری دُنْیَوِی حَیات ہی تک مَحْدُود نہیں بلکہ روضۂ اَقْدَس میں حاضِری بھی یقیناً دربارِ رَسول ہی میں حاضِری ہے۔ اسی لیے عُلَمائے کِرام عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ السَّلَامنے تصریح فرما دی ہے کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دربار کا یہ فیض آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفاتِ اَقْدَس سے مُنْقَطِع نہیں ہوا ہے۔ اس لیے جو گناہ گار قَبْرِ اَنْوَر کے پاس حاضِر ہو جائے اور وہاں خُدا سے اِسْتِغْفار کرے اور چونکہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو اپنی قَبْرِ اَنْوَر میں اپنی اُمَّت کے لیے اِسْتِغْفار فرماتے ہی رہتے ہیں، لہٰذا اس گناہ گار کے لیے مَغْفِرَت کی تینوں شرطیں پائی گئیں۔ اس لیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی ضَرور مَغْفِرَت ہو جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ چاروں مَذاہِب کے عُلَمائے کِرام نے مَناسِکِ حَج و زِیَارَت کی کِتابوں میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ جو شخص بھی رَوضۂ مُنَوّرہ پر حاضِری دے اس کے لیے مُسْتَحَب ہے کہ اس آیَت کو پڑھے اور پھر خُدا سے اپنی مَغْفِرَت کی دُعا مانگے۔مذکورہ بالا آیَتِ مُبارَکہ کے عِلاوہ بَہُت سی حدیثیں بھی رَوضَہ مُنَوّرہ کی زِیَارَت کے فضائل میں وارِد ہوئی ہیں جن کو عَلّامہ سَمْہُودی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی نے اپنی کتاب وفاء الوفا اور دوسرے مُسْتَنَد سلف صَالِـحِین عُلَمائے دین نے اپنی اپنی کتابوں میں نَقْل فرمایا ہے۔ مثلاً فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَهٗ شَفَاعَتِیْ۔[2] یعنی جس نے میری قَبْر کی زِیَارَت کی اس کے لیے میری شَفَاعَت واجِب ہو گئی۔ اسی لیے صَحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہم کے مُقَدَّس زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان قَبْرِ مُنَوَّر کی زِیَارَت کرتے اور آپ کی مُقَدَّس جناب میں تَوَسُّل اور اِسْتِغَاثَہ کرتے رہے ہیں اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قِیامَت تک یہ مُبارَک سلسلہ جارِی رہے گا۔ [3]
سیرتِ صحابیات کی روشنی میں عشق و محبتِ مصطفٰے پر مشتمل چند باتیں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحبَّت کی کئی علامات ہیں،یہاں ذیل میں مُـخْتَلِف کُتُب [4]سے ماخوذ چند علامات ذِکْر کی جارہی ہیں:
[1] بہارِ شریعت، فضائل مدینہ طیبہ، ۱ / ۱۲۲۱
[3] سیرت مصطفےٰ، ص ۸۴۸
[4] یہاں مختلف کتب سے مراد یہ کتب ہیں: قوت القلوب از شیخ ابو طالب مکی، احیاء العلوم از امام غزالی، المواہب اللدنیہ از امام قسطلانی، شرح مواہب از امام زرقانی، شفا از قاضی عیاض و شرح شفا از ملا علی قاری اور سیرت مصطفیٰ از عبد المصطفی اعظمی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع