30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنز الایمان:حکْم مانو اللہ کا اور حکْم مانو رسول کا۔
ایک اور مَقام پر ہے:
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- (پ۵، النسآء: ۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جس نے رسول کا حکْم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکْم مانا۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! مَعْلُوم ہوا اِطَاعَتِ رَسول کے بغیر اِسلام کا تَصَوُّر ہی نہیں کیا جا سکتا اور اِطَاعَتِ رَسول کرنے والوں ہی کے لیے بُلَند دَرَجات ہیں۔لہٰذا ہم پر لازِم ہے کہ ہر قِسْم کے قول و فعل میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سِیْرَتِ طیبہ سے رہنمائی لی جائے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیان کردہ شَرْعی حُدُود سے تَجَاوُز نہ کیا جائے۔
(4) محبتِ رسول
اسی طرح ہر اُمَّتی پر رَسولِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حَق ہے کہ وہ سارے جَہان سے بڑھ کر آپ سے مَحبَّت رکھے اور ساری دنیا کی مَحْبُوب چیزوں کو آپ کی مَحبَّت پر قربان کر دے ۔جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا اَمِیرِ مُعاوِیہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنہ کی خالہ جان حضرت سَیِّدَتُنا فاطمہ بِنْتِ عتبہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنہا ایک بار سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَتِ اَقدس میں حاضِر ہوئیں تو عَرْض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ایک وَقْت تھا کہ میں چاہتی تھی کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گھر کے عِلاوہ دنیا بھر میں کسی کا مکان نہ گرے مگر اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اب میری خواہش ہے کہ دنیا میں کسی کا مکان رہے یا نہ رہے مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مَکان ضَرور سلامَت رہے۔ اِرشَاد فرمایا: تم میں سے کوئی بھی اس وَقْت تک کامِل مومِن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ مَحْبُوب نہ ہو جاؤں۔ [1]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحبَّت صِرف کامِل و اکمل اِیمان کی عَلامَت ہی نہیں بلکہ ہر امتی پر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ حَق بھی ہے کہ وہ سارے جَہان سے بڑھ کر آپ سے مَحبَّت رکھے اور ساری دنیا کو آپ کی مَحبَّت پر قربان کر دے ۔
محمد کی مَحبَّت دینِ حق کی شرطِ اوّل ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمد کی مَحبَّت ہے سند آزاد ہونے کی
خُدا کے دامَنِ توحید میں آباد ہونے کی[2]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!صحابیات طیبات رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنْہُنَّ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحْبُوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جس قَدْر مَحبَّت کرتی تھیں، اس کی مِثالیں شُمار سے باہَر ہیں۔ یہاں صِرف چند مِثالیں ہی ذِکْر کی جارہی ہیں۔ یاد رکھئے! سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پہنچنے والی کسی بھی قسم کی جسمانی تکلیف پر صَحابیات طیبات رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُنَّ اس طرح بے قرار ہو جاتیں گویا یہ تکلیف انہیں پہنچی ہو۔چنانچہ، مَرْوِی ہے کہ جب اُمَّہاتُ الْمومنین مرضُ الموت کے دوران بارگاہِ نُبوّت میں حاضِر ہوئیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تکلیف ان سے بَرْدَاشْت نہ ہوئی۔ اس مَوْقَع پر اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا نے مَحْبُوبِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جو کچھ عَرْض کی وہ آپ کے مَحبَّتِ مصطفےٰ کا پیکر ہونے کا منہ بولا ثُبُوت ہے۔ چنانچہ آپ نے عَرْض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَسم: یا نَبِیَّ اللہ! کاش!مَیں آپ کی جگہ ہوتی۔ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے دو۲جہاں کے تاجْوَر،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع