30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب کو اس طرح جمع دیکھ کر چند ایسے لوگ بھی بیٹھ گئے جو ابھی تک مسلمان نہ ہوئے تھے کہ دیکھیں کیا ہو رہا ہے ۔ ۔ ؟ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نہایت ہی پیارے انداز میں نیکی کی دعوت پیش کی، سبھی خاموش اور متوجہ ہو کر سننے لگے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اندازِ بیان سے متاثر ہونے لگے ۔
سعد بن معاذ اور اُسَید بن حُضَیر قبیلہ بَنِی عَبد الاَشْھَل کے چوٹی کے سردار تھے ، یہ ابھی دامن اسلام سے وابستہ نہ ہوئے تھے ۔ جب انہیں یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت اَسْعَد بِن زُرَارَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ ایک مکی نوجوان ہمارے قبیلے میں داخل ہوا ہے اور ہمارے لوگوں کو اسلام کی دعوت دے کر اپنے مذہب سے ہٹا رہا ہے تو سعد بن معاذ نے اُسَید بن حُضَیر سے فرمایا کہ جائیں اور اس نوجوان کو سمجھائیں کہ ہمارا شہر چھوڑ کر چلا جائے ، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ اَسْعَد بِن زُرَارَہ میرے خالہ زاد ہیں ، اگر وہ ساتھ نہ ہوتے تو میں
خود ایسا کرتا ۔ چنانچہ بَنِی عَبد الاَشْھَل کے سردار اُسَید بن حُضَیر نے اپنا نیزہ لیا اور کنوئیں کی طرف چل دئیے ۔
حضرت سَیِّدُنا اَسْعَد بِن زُرَارَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کو دور سے ہی آتے ہوئے دیکھ لیا اور حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِن عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی : ”یہ شخص اپنی قوم کا سردار ہے ، جب قریب آئے تو اسے اپنے دل نشین انداز میں نیکی کی دعوت پیش کیجئے گا ۔ “ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ”ٹھیک ہے ، اگر پاس بیٹھ گئے تو میں ضرور نیکی کی دعوت پیش کروں گا ۔ “
اتنی دیر میں اُسَید بن حُضیر ان کے پاس پہنچ گئے اور آتے ہی کہنا شروع کر دیا : ”تم دونوں یہاں کس لئے آئے ہو ؟ تمہیں ہمارے کمزوروں کو ورغلانے اور اپنے دین سے بہکانے کی اجازت کس نے دی ؟ اگر جان پیاری ہے تو اسی وقت یہاں سے چلے جاؤ ۔ “ اتنا سخت کلام سن کر نیکی کی دعوت کے اس عظیم مبلّغ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے نورِ ایمان سے چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ اُسَید بن حُضَیر کی طرف دیکھا اور نہایت ہی نرم اور میٹھے لہجے میں فرمایا : ”میری ایک بات سن لیجئے ! کیا آپ کو خیر وبھلائی چاہئے ؟ “ اُسَید بن حُضَیر تو لڑنے آئے تھے ، مگر اس قدر نرم لہجہ سن کر پگھل گئے اور پوچھا کہ خیرو بھلائی سے تمہاری کیا مراد ہے ؟ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ”میرے پاس بیٹھ کر میری بات سن لیجئے ! اگر سمجھ میں آجائے تو اسے مان لیجئے گا اور اگر پسند نہ آئے تو ہم آپ کو مجبور نہیں کریں گے بلکہ چلے جائیں گے ۔ “ اُسَید بن حُضَیر چونکہ بڑے عقلمند تھے لہٰذا انہوں نے (سوچا اگر اس طرح معاملہ حل ہو سکتا ہے تو زیادہ بہتر ہے ، اس لیے ) کہا : ”یہ صحیح ہے ۔ “ اسکے ساتھ ہی اپنا نیزہ زمین پر گاڑ کر ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے ۔
حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے میٹھے میٹھے اور پیارے پیارے خوبصورت انداز میں نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے اسلام کی خوبیاں ، فضائل اور برکتیں ایسے دل پذیر لہجے میں بیان کیں کہ وہ آہستہ آہستہ تاثیر کے تیر بن کر ان کے دل میں پیوست ہونے لگیں ، پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآنِ مجید کی کچھ آیات کی تلاوت کی ۔ تو اُسَید بن حُضَیر کے چہرے پر قبولِ اسلام پر آمادگی کے آثار نمودار ہونے لگے ، بالآخر پکار اٹھے کہ آپ کی باتیں کیا خوب ہیں ! کس قدر دل نشین اور دل گداز ہیں ! جس کلام کی آپ تلاوت کرتے ہیں وہ بہت عظیم ہے ۔ پھر انہوں نے جھکی ہوئی نظروں سے بااَدَب انداز میں پوچھا : اسلام میں داخل ہونے کا طریقہ کیا ہے ؟ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت اُسَید بن حُضَیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دائرۂ اِسلام میں داخل ہونے کا طریقہ بتایا اور اس طرح وہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بردباری اور میٹھے انداز میں پیش کی گئی نیکی کی دعوت کو سن کر مسلمان ہو گئے ۔
جب حضرت سَیِّدُنا اُسَید بن حُضَیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلمان ہو گئے تو کہنے لگے : ”میرے پیچھے ایک آدمی اَور ہے جس کا نام سعد بن معاذ ہے ، اگر اس نے آپ کی بات مان لی تو میری ساری قوم آپ کی بات مان لے گی، میں اسے ابھی آپ کے پاس بھیجتا ہوں ۔ “ یہ کہہ کر آپ وہاں سے چل دیئے اور سعد بن معاذ کے پاس جا پہنچے اور انہیں نیکی کی دعوت سننے کے لئے آخر کسی طرح آمادہ کر ہی لیا اور بالآخر حضرت سَیِّدُنا سعد بن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی دل نشین اور میٹھے انداز میں پیش کی گئی نیکی کی دعوت سن کر مسلمان ہو گئے ۔ اس کے بعد حضرت سَیِّدُنا سعد بن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی قوم کے پاس گئے تو ان سے فرمایا : ”تم میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ “ سب نے بیک زبان ہو کر کہا : ”آپ ہمارے سردار ہیں اور آپ کی رائے درست اور دُور رَس ہوتی ہے ۔ “ تو حضرت سَیِّدُنا سعد بن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ”مجھ پرتمہارے مردوں اور عورتوں سے اس وقت تک بات کرنا حرام ہے جب تک تم اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان نہیں لے آتے ۔ “ راوی فرماتے ہیں : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! شام بھی نہ ہوئی تھی کہ تمام مرد وعورت مسلمان ہو چکے تھے ۔ “[1]
نایاب مدنی پھول
سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صبر و تحمل، برد باری اور اِنْفِرادی کوشش پر ہزار جانیں قربان! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جس طرح اِسلام کی دعوت عام کی اور اس کے لیے اِنْفِرادی کوشش کا جو انداز اپنایا اس میں کئی مدنی پھول ہیں ۔ چنانچہ مبلغین کو چاہئے کہ وہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیاتِ طیبہ میں پائے جانے والے درج ذیل نایاب مدنی پھولوں کو اپنے دل کے مدنی گلدستے میں سجا لیں :
مبلغ و دَاعِی کو کیسا ہونا چاہئے ؟
٭… ایمانِ کامل :
حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیاتِ مبارکہ سے سب سے پہلا مدنی پھول یہ ملتا ہے کہ ایمان کے مرتبہ کمال پر فائز ہونے کے لیے کچھ بھی قربان کرنا پڑے تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے ۔ جیسا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلام کی خاطر والدین کی بے پناہ محبت و شفقت کو پس پشت ڈال کر حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عظمت نشان کو عملی طور پر ثابت کر دکھایا : لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى اَكُونَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَّالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِينَ یعنی تم میں سے کوئی اس وقت تک ایمان کے مرتبہ کمال تک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع