30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب اپنے کسی جانثار کو کسی کام کے لئے منتخب فرماتے تو وہ اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا اپنی سعادت سمجھتا، لہٰذا یہی وجہ ہے کہ جب دوسرے بہت سے جلیل القدر صحابۂ کرام کی موجودگی میں حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا انتخاب ہوا تو وہ اپنے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے فوراً سوئے مدینہ چل دیئے ۔
حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ 11 نبوی بمطابق 620 ء کو مدینہ منورہ پہنچے اور 12 نبوی بمطابق 621 ء یعنی صرف 12 ماہ کے قلیل عرصہ میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس احسن انداز میں اسلام کی دعوت عام کی کہ مدینہ منورہ کا کوچہ کوچہ اور گلی گلی ذکرِ خدا و ذکرِ مصطفے ٰ کے انوار سے جگمگانے لگا ۔ ہر طرف دینِ اسلام کے چرچے پھیل گئے ۔ بچہ ہو یا جوان ہر ایک کے دل میں عشقِ مصطفے ٰ کی شمع فروزاں ہو گئی ۔ پھر حج کے موسم میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ 70 انصار کا ایک مدنی قافلہ لے کر بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئے اور اس طرح بیعتِ عقبہ ثانیہ میں انصارِ مدینہ کے شرکائے قافلہ کو دیدارِ مصطفے ٰ کی دولت پا کر صحابی ہونے کا شرف کیا ملا گویا انہیں دو جہانوں کی دولت مل گئی ۔ [1]
زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
جھکاؤ نظریں بچھاؤ پلکیں ادب کا اعلیٰ مقام آیا
یہ کون سر سے کفن لپیٹے چلا ہے الفت کے راستے پر
فرشتے حیرت سے تک رہے ہیں یہ کون ذی احترام آیا
فضا میں لبیک کی صدائیں ز فرش تا عرش گونجتی ہیں
ہر ایک قربان ہو رہا ہے زباں پہ یہ کس کا نام آیا
یہ نفوسِ قدسیہ وہ تھے جنہوں نے مدنی قافلے کی شکل میں بارگاہِ نبوت میں حاضری کا شرف حاصل کر لیا مگر یہ اپنے پیچھے بہت سوں کو دیدارِ مصطفے ٰ میں تڑپتا چھوڑ آئے تھے ۔ کسی نے ان کے جذبات کی کیا خوب ترجمانی کی ہے :
یہ کہنا آقا بہت سے عاشق تڑپتے سے چھوڑ آیا ہوں میں
بلاوے کے منتظر ہیں لیکن نہ صبح آیا نہ شام آیا
پس حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے انتخاب کی لاج رکھی اور بارہ ماہ کے قلیل عرصہ میں نیکی کی دعوت کی وہ دھومیں مچائیں جو رہتی دنیا تک آنے والے مبلغین کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ چنانچہ،
آپ کی 12 ماہ کی کارکردگی :
الطبقات الکبریٰ میں ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اَوس و خَزْرَج کے ان ستر افراد پر مشتمل حاجیوں کے قافلے کے ہمراہ مکہ مکرمہ پہنچے جنہوں نے بعد میں دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بیعت عقبۂ ثانیہ کا شرف حاصل کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے گھر جانے کے بجائے سب سے پہلے شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تا کہ دیدار کی دولت سے فیض یاب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی بارہ ماہ کی کارکردگی بھی پیش کر سکیں ۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نہ صرف انصارِ مدینہ کے تیزی سے اسلام قبول کرنے کے متعلق تمام تفصیلات سے میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آگاہ کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ وہ کس قدر بے تابی سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔ محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے جانثار کی اس بہترین کارکردگی پر حد درجہ خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا اور ان کی حوصلہ افزائی و دلداری بھی فرمائی ۔ [2]
دیدارِ مصطفٰے کی تڑپ :
حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ابھی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ہی تھے کہ کسی نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی والدہ کو آپ کی مکہ مکرمہ آمد کے متعلق آگاہ کر دیا، ماں کا چہرہ اپنے لال کی آمد کے متعلق سن کر کھل اُٹھا اور فوراً بیٹے کو یہ پیغام بھیجا کہ اے نافرمان! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو سب سے پہلے میرے پاس آنے کے بجائے کسی اور کے پاس چلا گیا ہے ؟ کیا میری شفقیں میری مہربانیاں سب کچھ بھول گیا ہے ؟ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پیغام لانے والے سے فرمایا کہ میری ماں سے کہہ دینا : اے میری ماں ! یاد رکھ! جس شہر میں سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہوں اور میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیدار کی دولت سے فیض یاب ہونے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری باتیں سننے سے پہلے کسی اور کے پاس جاؤں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ [3]
حضور نبی ٔ کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اپنی تمام کارگزاری پیش کرنے کے بعد حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اجازت لے کر جب اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے سب سے پہلا سوال ہی یہ کیا : کیا ابھی تک تو اپنے آبائی دین سے بَرْگَشْتَہ (بَر ۔ گَش ۔ تَہ ۔ منحرف، پھرا ہوا) ہے ؟ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : میرا اپنے آبائی دین سے کوئی تعلق نہیں بلکہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دینِ حنیف یعنی اسلام پر ہوں ۔ ماں بولی : کیا تجھے ذرہ بھر میری محبت کا احساس نہیں کہ میں تیری جدائی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع