30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ایک نسبت یہ بھی حاصل ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ حضرت سیدتنا حمنہ بنت جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی امیمہ بنت عبد المطلب کی بیٹی اور ام المومنین حضرت سیدتنا زینب بنت جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی بہن ہیں ۔ اور ان سے آپ کی زینب نامی ایک ہی بیٹی پیدا ہوئی ۔ [1]
جس سر زمین کو عنقریب دارُ الھجرت اور مدینۃُ النبی بننے کا شرف حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ مرکز اسلام بننا تھا ۔ وہاں ضرورت اس امر کی تھی کہ اس سرزمین پر اسلام کی دعو ت اس منظم انداز میں عام کی جائے کہ جب محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے جانثاروں کے ساتھ یہاں جلوہ افروز ہوں تو نہ صرف اس سرزمین پر کفر و شرک کے اثرات مٹ چکے ہوں بلکہ ہر طرف توحید و رسالت کے پرچم لہرا رہے ہوں ۔ چنانچہ ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بہت سے جلیل القدر، عظیم المرتبت اور جہاں دیدہ و عمر رسیدہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی موجودگی میں حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جو انتخاب فرمایا وہ کئی وجوہات کی بنا پر ہر طرح موزوں و مناسب تھا ۔
… آپ کا تعلق جس خاندان سے تھا وہ پورے عرب میں علمبردارِ قریش ہونے کی حیثیت سے اپنی ایک مخصوص پہچان رکھتا تھا ۔ گویا سرورِ دو جہاں نے آپ کا انتخاب اس لیے فرمایا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدینہ طیبہ تشریف آوری سے پہلے مدینہ کے ہر گھر میں اسلام کا پرچم لہرا دیں ۔
… اہل مدینہ کو کسی ایسے مُبَلّغ کی ضرورت تھی جس پر اوس و خزرج کے تمام لوگ متفق ہو جائیں اور ایسا اسی صورت میں ممکن تھا کہ وہ حسب و نسب کے اعتبار سے اعلیٰ ہو اور بلاشبہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس معیار پر پورا اترتے تھے ۔
… اسلام کی دعوت عام کرنے والے کے لیے ضروری تھا کہ وہ خوش اَخلاق، بردبار، صاحب ِ حکمت اور صبر کرنے والا ہو ۔ اگر پہلی مرتبہ نیکی کی دعوت کارآمدنہ ہو تو دوسری مرتبہ پیش کرے اور ہر صورت میں نرمی سے ہی کام لے کیونکہ جسے نیکی کی دعوت دی جائے گی وہ نفس وشیطان کی قید میں ہو گا ۔ پس مُبَلّغ کو چاہئے کہ ہر صورت میں اس کے ساتھ نرمی کا برتاؤ اختیار کرے یہاں تک کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِذن سے نفس وشیطان پر غالب آ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائے ۔ اور یہ تمام اوصاف حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میں پائے جاتے تھے ، کیونکہ کفارِ مکہ کے ظلم و ستم کی بھٹی نے زمانہ جہالت کے ہر قسم کے میل کچیل کو ان سے دور کر کے انہیں کندن بنا دیا تھا ۔
… دوسرے بہت سے جلیل القدر صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی موجودگی کے باوجود محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نگاہِ انتخاب کے حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر ٹھہرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دیارِ غیر میں تبلیغ دین کے لیے جن مشکلات کا سامنا ممکن تھا، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان سے نبرد آزما ہونے کا بخوبی تجربہ رکھتے تھے جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہجرتِ حبشہ کے دوران اپنے وطن سے دور رہ کر حاصل کیا تھا ۔
… اہل مدینہ کے پاس جانے والا مُبَلّغ چونکہ ایسا ہونا چاہئے تھا جو علم والا ہونے کے ساتھ ساتھ علم پر عمل کرنے والا بھی ہو ۔ یعنی وہ نیکیوں پر کمربستہ ہونے کے ساتھ ساتھ برائیوں سے بچنے والا بھی ہو تا کہ لوگ جب نیکی کی دعوت دینے والے کوباعمل دیکھیں تواس کی پیروی کرتے ہوئے برائیوں کو ترک کرنے میں جلدی کریں (کیونکہ نیکی کی دعوت دینے سے مقصود برائی کو مٹانا اور بھلائی کو پھیلانا ہے ) اور اگر وہ خود ہی بے عمل ہو گا تو لوگ اس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیں گے اور بدستور برائیوں پر قائم رہیں گے ۔ لہٰذا حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس معیار پر بھی پورا اترتے تھے کیونکہ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے رِضائے ربُّ الانام کے حصول کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا ۔ نیز آپ کو علم دین سیکھنے سکھانے کا بہت شوق تھا جس کی وجہ سے آپکو قرآنِ کریم کی بہت سی آیاتِ مقدسہ بھی زبانی یاد ہو چکی تھیں ۔
… مُبَلّغ کے لئے چونکہ یہ بھی ضروری تھا کہ مال و دولت کی چمک دمک اس کے سامنے کوئی وَقعت نہ رکھتی ہو، تا کہ جس کو دعوت دے نہ تو اس کے مال میں لالچ کرے اور نہ ہی اس کی خوشامد و چاپلوسی کرے ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر نگاہِ انتخاب ٹھہرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ مال و دولت کی آپ کی نگاہوں میں کوئی وقعت نہ تھی کیونکہ جب آپ کی نگاہوں میں ماں باپ کی بے شمار دولت کی کوئی حیثیت نہ تھی تو کسی دوسرے کے مال کی کیا پرواہ کرتے ؟
… مُبَلّغ کو چونکہ نیکی کی دعوت دینے اورنصیحت کرنے میں کافی مشکلات پیش آ سکتی تھیں چنانچہ اس کا جرأت مند ہونا بھی ضروری تھا اور اس اعتبار سے بھی حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مناسب تھے کہ بہادری و جرأت مندی آپ کی خاندانی میراث تھی ۔
تیری نسبت نے سنوارا میرا اندازِ حیات
میں اگر تیرا نہ ہوتا سگِ دنیا ہوتا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
الغرض ایک مُبَلّغ کو جن اوصافِ حمیدہ سے متصف ہونا چاہئے تھا وہ تمام حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات میں بدرجہ اَتم پائے جاتے تھے ۔ چنانچہ آئیے اب یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سرکار کے اس انتخاب کی لاج کس طرح نبھائی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع