30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مکہ پہنچنے پر کفارِ مکہ نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور یوں ظلم و ستم کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ۔ چنانچہ خَاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوبارہ اپنے جانثاروں کو حبشہ جانے کا حکم دیا اور اس طرح یہ حسین نوجوان پھر اپنے آقا کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے 82 یا 83 مردوں اور 18 عورتوں کے قافلے میں شریک ہو کر سوئے حبشہ روانہ ہو لیا ۔ [1]کفارِ مکہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ مسلمان حبشہ میں خوش وخرم زندگی بسر کر رہے ہیں تو گویا ان کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے ، انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح مہاجرینِ حبشہ کی خوشیوں میں زہر کی آمیزش کی جائے مگر ان کی کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی ۔ البتہ! بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے زیادہ دیر تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جدائی برداشت نہ ہو سکی اور وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مدینہ منورہ ہجرت سے پہلے واپس مکہ مکرمہ لوٹ آئے ، ان لوٹنے والوں میں یہ خوش نصیب حسین نوجوان بھی تھا ۔
کفارِ مکہ کے روز بروز بڑھتے ہوئے ظلم و ستم سے تنگ آکر مسلمان ایک ایسی سرزمین کی ضرورت شدت سے محسوس کر رہے تھے جو کفار مکہ کی ریشہ دوانیوں (فتنہ انگیزیوں ) سے نہ صرف تمام مسلمانوں کے لیے ایک محفوظ اور مضبوط پناہ گاہ کا کام دے بلکہ اسلام کا اولین مرکز بننے کی بھی صلاحیت رکھتی ہو ۔ چنانچہ جب اس سر زمین میں نورِ اسلام کی کرنیں پہنچیں کہ جسے عنقریب دَارُ الْھِجْرَت، مَدِیْنَۃُ النَّبِی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور مدنی مرکز بننے کا شرف حاصل ہونے والا تھا تو وہاں کے رہنے والوں نے بیعت عقبۂ اُولیٰ کے بعد ہادیِ برحق صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں یہ درخواست پیش کی کہ کوئی ایسا مُبَلّغ ان کے ہاں بھیجا جائے جو نہ صرف ان کے علاقے میں اسلام کی دعوت عام کرے بلکہ لوگوں کو قرآنِ کریم کی تعلیمات سے بھی آراستہ کرے ۔
مدینہ والوں کو چونکہ ایک ایسے باصلاحیت مُبَلّغ کی ضرورت تھی :
… جو اپنی خداداد صلاحیتوں اور تقویٰ وپرہیزگاری کی بدولت انتہائی کم عرصے میں اسلامی انقلاب برپا کر دے ۔
… جس کی زبان کی شیرینی اور کردار کا حسن غیر مسلموں کے پتھر دلوں کو پگھلا دے ۔
… جو کفار کے منہ سے نکلے ہوئے ترش اور زہریلے تیروں کا جواب اس طرح مسکراتے ہونٹوں سے دے کہ بولے تو رس گھولے ۔
… جس کی نگاہوں میں دنیاوی مال و متاع کی حیثیت گھاس کے تنکے کے برابر بھی نہ ہو ۔
… جو آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلا ہو ۔
… جس کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف عشقِ مصطفے ٰ ہو ۔
… جو دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدینہ منورہ میں جلوہ گری سے پہلے جانبازوں کا ایک ایسا ہَراوَل دستہ تیار کرے جس کے فلک شگاف نعرے سے کفر کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہو جائے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نگاہِ نبوت نے اس عظیم مشن کے لئے اپنے جس جانثار کا انتخاب کیا وہ بنو عبد الدار کا یہی حسین نوجوان تھا [2]جس نے اپنے میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت میں عیش و عشرت کی زندگی کو ٹھکرا دیا تھا ۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ نگاہِ مصطفے ٰ کو بھا جانے والا یہ نوجوان کون تھا ؟ تو جان لیجئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاطر سونے کی سیج کو ٹھکرانے والے اس خوش نصیب نوجوان کو آج ساری دنیا حضرت سَیِّدُنا ابو عبد اللہ مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نام سے جانتی و پہچانتی ہے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار ان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور اَلسَّابِقُونَ الْاَوَّلُون (یعنی سبقت لے جانے والے سب سے پہلے مسلمان ہونے ) کا لقب پایا ۔ [3]
حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نسب یہ ہے : مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر بِنْ هَاشِم بِن عَبد مَنَاف بِن عَبد الدَّار بِن قُصَیّ بن كِلاب بِن مُرَّة القرشی العبدری ۔ اس لحاظ سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسب میں دہری نسبت حاصل ہے ۔ پہلی یہ کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی والدہ ماجدہ حضرت سیدتنا آمنہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے خاندان بنی عبد الدار سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سرورِ دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے والدہ ماجدہ کی جانب سے چوتھی پشت میں جا ملتے ہیں اور دوسری نسبت یہ حاصل ہے کہ والد ماجد کی جانب سے پانچویں پشت میں قُصَیّ بن كِلاب بِن مُرَّة پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نسب شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب مبارک سے جا ملتا ہے ۔
حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سرکارِ والا تَبار، ہم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع