30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے نوازا کہ یقیناً ان سے حسنِ سلوک کیا جائے گا، پھر بعد میں جب حضرت سیدتنا حمنہ بنت جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جنتی صحابی حضرت سَیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے نکاح فرما لیا تو وہ سب سے زیادہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی کا خیال رکھا کرتے ۔ [1]
کتاب المغازی میں ہے کہ جب بدبخت ابن قَمِیئہ نے حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے اَبدی ذِلتوں کا حقدار قرار دیتے ہوئے کچھ یوں ارشاد فرمایا : اَقْمَاَهُ اللّٰهُ“ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ذلیل و رسوا فرمائے ۔ چنانچہ وہ بکری کا دُودھ دوہنے کے لیے اسے پکڑے ہوئے تھا کہ اچانک ایک بکری نے سینگ مار مار کر اس کا کچومر نکال دیا اور یوں وہ پہاڑوں کے درمیان مردہ حالت میں پایا گیا ۔ [2]
ایک روز حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے کھانا رکھا گیا، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس دن روزے سے تھے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لذیذ نعمتیں دیکھیں تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّی یعنی حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شہید کر دیئے گئے حالانکہ وہ مجھ سے بہتر تھے ۔ اور ان کو ایک ایسی چادر میں کفنایا گیا کہ اِنْ غُطِّىَ رَاْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ اگر سر کو چھپاتے تو پیر کھل جاتے وَاِنْ غُطِّىَ رِجْلَاهُ بَدَا رَاْسُهُ اور اگر پیروں کو چھپاتے تو سر کھل جاتا ۔ [3]اور ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سر ڈھکتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا ۔ محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم چادر سے ان کا سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر اِذْخِر (نامی ایک قسم کی خود رو گھاس) ڈال دیں ۔ [4]
حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر مبارک سرکار کے حکم سے بنائی گئی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تاقیامِ قیامت زمین کی گود میں آرام کرنے کے لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بھائی حضرت سیدنا ابو روم بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیدنا عامر بن ربيعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیدنا سُوَيْبِط بن سعد بن حرملہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قبر میں اتارا ۔ [5]
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی راہِ خدا میں دی جانے والی قربانیوں پر صد کروڑ مرحبا! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلام کی خاطر عیش بھری زندگی کو چھوڑا او ر جہانِ فانی سے کوچ کے وقت عشاق کے لیے یہ انمول درس دیا کہ جینا ہو تو ایسا اور مرنا ہو تو ایسا ۔ زندگی کی لطافتوں اور راحتوں میں وہ مزہ نہیں جو محبوبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جان وار دینے میں ہے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دنیا کی نعمتوں سے مالا مال تھے تو خوب مزے اُڑائے اور جب ان فانی نعمتوں سے منہ موڑ کر ابدی و سرمدی نعمتوں کی جانب متوجہ ہوئے تو نہ زندگی میں پورا لباس میسر آیا اور نہ مرنے کے بعد پورا کفن ملا ۔ چنانچہ راہِ خدا کی ان آزمائشوں پر صبر کے بدلے انہیں کیسا پیارا انعام ملا کہ جب رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شہدائے احد کے پاس تشریف لائے تو ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں پر گواہ ہوں کہ جو بندہ راہِ خدا میں زخمی ہو (کر مرتبۂ شہادت پر فائز ہو) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بروزِ قِیامت اس حال میں اُٹھائے گا کہ اس کے زخم سے تازہ خون بہہ رہا ہو گا جس کا رنگ تو خون جیسا ہی ہو گا مگر بو کستوری کی ہو گی ۔ (اے میرے جانثار صحابہ! تدفین کے وقت) خاص خیال رکھنا کہ جسے ان شہدا میں سے قرآنِ کریم زیادہ یاد ہو اسے قبر میں دوسروں سے پہلے رکھنا ۔ [6]اور حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میدانِ اُحد سے واپسی کے وقت باذنِ پروردگار دو عالَم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر شہدا کے پاس ٹھہر گئے اور ارشاد فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تم بارگاہِ خداوندی میں زندہ ہو ۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا : ان کی قبور کی زیارت کر کے ان پر سلاموں کے نذرانے پیش کرنا، قسم اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! قیامت تک جو بھی انہیں سلام کرے گا یہ اس کو سلام کا جواب دیں گے ۔ [7]
اللہ 1 کی شہدائے اُحد پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭…٭
ماخذو مراجع
نمبر شمار کتاب مصنف / مولف
1 قرآن مجید کلام باری تعالیٰ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[1] المغازی للواقدی، ج۱، ص۲۹۱
[2] المغازی للواقدی، غزوہ احد، ج۱، ص۲۴۶
[3] السنن الكبرى للبيهقي، كتاب الجنائز، باب الدليل على جواز التكفين فى ثوب واحد، الحدیث : ۶۶۸۳، ج۳، ص۵۶۳
[4] بخاری ، کتاب الجنائز ، باب اذا لم یجد کفنا، الحدیث : ۱۲۷۶، ج ۱، ص۴۳۱
[5] الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ج۳، ص۹۰
[6] مسند احمد، الحدیث : ۲۳۷۱۸، ج۹، ص ۱۶۶
[7] المعجم الا و سط ، الحدیث : ۳۷۰۰، ج۳، ص ۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع