دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabi ki Infiradi koshish | صحابی کی انفرادی کوشش

book_icon
صحابی کی انفرادی کوشش

المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے لے کر حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حوالے کر دیا ۔  [1]

آقا پر جان قربان کر دی :

حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے میدانِ احد میں  جس بہادری و شجاعت کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ میں سنہری حروف سے رقم ہے ۔ چنانچہ مروی ہے کہ جب میدانِ احد میں کفارِ مکہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے اور مسلمان فتح کی خوشی سے سرشار مالِ غنیمت اکٹھا کرنے کے لیے اپنی مخصوص جگہوں سے ہٹ گئے تو انہیں غافل پا کر بھاگتے ہوئے مشرکین نے اچانک پلٹ کر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان بھی پہنچا ۔ اس ابتری و افرا تفری کے عالم میں بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے دشمنانِ اسلام کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دور رکھنے کے لیے بہادری و جانثاری کی ایسی عظیم مثالیں قائم کیں کہ چشمِ فلک آج بھی حیران اور دُنیا انگشت بدنداں ہے کیونکہ جانثارانِ مصطفے ٰ  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے گرد سیسہ پلائی دیوار کھڑی کر دی اور کفارِ مکہ کو عملی طور پر بتا دیا کہ وہاں تک جانے سے پہلے ہماری لاشوں پر سے گزرنا ہو گا ۔ چنانچہ،

جان دیدی مگر پرچم اسلام پر آنچ نہ آنے دی :

حضرت محمد بن سعد بن منیع ہاشمی بصری المعروف ابن سعد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی ۲۳۰ھ) الطبقات الکبریٰ میں فرماتے ہیں کہ اسلامی لشکر میں اَبتری پھیلی مگر حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ثابت قدم رہے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کفارِ مکہ کے بڑھتے ہوئے لشکر پر ٹوٹ پڑے تو بدبخت ابن قَمِیئہ [2]نے موقع پا کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس دستِ اقدس پر تلوار سے وار کیا جس میں پرچم تھا، وہ ہاتھ کٹ کر گرا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پرچم دوسرے ہاتھ سے تھام لیا، اس بدبخت نے اس ہاتھ کو بھی جسم سے جدا کر دیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پھر بھی پرچمِ اسلام کو سرنگوں نہ ہونے دیا بلکہ اپنے کٹے ہوئے بازوؤں کے حصار میں لے لیا، پھر اس دشمنِ اسلام نے آخری وار کرتے ہوئے نیزہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سینے میں پرو دیا اور یوں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جامِ شہادت نوش فرما گئے ۔ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے باپ شریک بھائی حضرت ابو روم بن عمیر [3]رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور بنو عبد الدار کے حضرت سُوَیْبط بن سعد بن حَرْمَلَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آگے بڑھ کر فوراً پرچمِ اسلام کو تھام لیا اور اسے سرنگوں نہ ہونے دیا ۔ پھر یہ پرچم مدینہ واپسی تک حضرت ابو روم بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس ہی رہا ۔ [4]  

ایک روایت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کے بعد پرچمِ اسلام کو سرنگوں ہونے سے بچانے کے لیے حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شکل میں ایک فرشتے نے آگے بڑھ کر تھام لیا ۔ اور المصنف لابن ابی شیبہ میں ہے کہ غزوۂ اُحد کے دن سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : مصعب! آگے بڑھو! تو حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی : یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شہید نہیں ہو گئے ؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ہاں ! وہ تو شہید ہو چکے ہیں مگر ان کی شکل و صورت میں ایک فرشتہ ان کی جگہ کھڑا ہوا ہے جس کا نام بھی مصعب ہی ہے ۔ [5]

باہمت زوجہ :

مروی ہے کہ حضرت سیدتنا حمنہ بنت جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے غزوۂ اُحد میں زخمیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری بڑی بہادری سے سر انجام دی ۔ جب رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو جنگ کے خاتمہ کے بعد میدانِ اُحد کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا : اے حمنہ! اپنے عزیز کی شہادت پر صبر کر اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں ثواب کی امید رکھ ۔ عرض کی : یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کس نے مرتبۂ شہادت پایا ہے ؟ فرمایا : تمہارے ماموں سیدنا حمزہ شہید ہو گئے ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز الایمان : ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ۔ کہا اور ان کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے ہوئے عرض کی : انہیں شہادت مبارک ہو ۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر پہلے کی طرح صبر کی تلقین فرمائی تو عرض کی : یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اور کون شہید ہوا ہے ؟ فرمایا : تمہارا بھائی عبد اللہ بن جحش ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ” اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) “پڑھا اور ان کے لیے بھی مغفرت و رحمت کی دعا کرتے ہوئے عرض کی : انہیں بھی جنت مبارک ہو ۔ اور جب سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تیسری مرتبہ صبر کا دامن تھامے رہنے پر اجر و ثواب کی نصیحت فرمائی تو عرض کی : یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اور کون شہید ہوا ہے ؟ اس بار آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب یہ بتایا کہ ان کے  شوہر حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی مرتبۂ شہادت پر فائز ہو گئے ہیں تو یہ اندوہناک خبر سن کر ان کے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ غم سے نڈھال ہو گئیں اور بے اختیار ان کے دل پردرد سے ایک آہِ سرد الفاظ کا جامہ پہن کر کچھ یوں نکلی : ”وَاحُزْنَاہ! ہائے افسوس!“ تو سرکارِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ایک عورت کے نزدیک جو مرتبہ شوہر کا ہوتا ہے وہ کسی دوسرے رشتے کا نہیں ہو سکتا ۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے دریافت فرمایا : اے حمنہ! تو نے اپنے شوہر کی شہادت پر ہی یہ کیوں کہا ؟ عرض کی : یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے جب ان کی یتیم بچی کی پرورش کا خیال آیا جس کی بھاری ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر آن پڑی ہے تو اسی خوف سے بے اختیار میرے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے ۔ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کرم فرماتے ہوئے حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اولاد کو اپنی دعاؤں



[1]     سبل الھدیٰ و الرشاد، ج۴، ص۱۹۰

[2]     یہ بدبخت ابن قمیئہ وہی ہے جس نے اسی غزوہ میں چہرۂ مصطفے ٰ پر وار کر کے اسے زخمی کر دیا تھا ۔

[3]     حافظ ابن عساکر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضر ت ابو روم بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے باپ شریک بھائی تھے ، ان کا شمار اولین اسلام قبول کرنے والے صحابہ کرام میں ہوتا ہے ، یہ دوسری ہجرتِ حبشہ میں شریک ہوئے ۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی ۔  (تاریخ مدینہ دمشق، ج۶۰، ص ۳۴۶)

[4]      الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ج۳، ص۸۹

[5]    مصنف ابن ابی شيبة، كتاب المغازی، هذا مَا حفظ ابو بكر فی اُحد،  الحدیث : ۲۹، ج۸، ص۴۸۹ مفھوماً

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن