دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabi ki Infiradi koshish | صحابی کی انفرادی کوشش

book_icon
صحابی کی انفرادی کوشش

امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ ہم ایکبار سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مسجد میں حاضر تھے ، اچانک مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے ، جن کی حالت یہ تھی کہ پورا جسم ڈھانکنے کے لئے مناسب لباس میسر نہ تھا بلکہ ایک ہی چادر سے جسم پوشی کی کوشش فرما رہے تھے اور اس پر بھی جگہ جگہ چمڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے ، اپنے جانثار کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کی عَیْش و تَنَعُّم والی زندگی یاد کر کے اور موجودہ فقیرانہ و زاہدانہ حالت ملاحظہ فرما کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چشمانِ کرم اَشک بار ہو گئیں ۔ [1]

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قسمت پر ہزاروں جانیں قربان! جن کے پھولوں کی سیج پر گزرے ہوئے ماضی کو یاد کر کے سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چشمانِ کرم بھی اشکبار ہو گئیں ۔

مُفَسِّرِ شَھِیر، حکیم الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کا گزشتہ عیش کا زمانہ یاد فرمایا تو رو پڑے یا ان پر رحم فرماتے ہوئے یا ان کے ترکِ دنیا اور آخرت کے درجات پر خوشی سے روئے ۔ پہلا احتمال زیادہ قوی ہے ۔ خیال رہے کہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ترکِ دنیا پر حضرت عمر روئے تو حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں رونے سے منع فرما دیا وہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صبر ہے اور یہاں حضرت مصعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر خود روئے یہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رحمت ہے ۔ [2]

کافر ہے مسلماں تو نہ شاہی نہ فقیری

مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اخلاقِ حمیدہ کی گواہی :

حضرت سَیِّدُنا عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسلام لانے سے لے کر شہید ہونے تک میرے سب سے بہتر ین دوست تھے ، ہم نے حبشہ دونوں مرتبہ اکٹھے ہی ہجرت کی وہ ہر جگہ میرے رفیق رہے اور میں نے ان سے بڑھ کر حسنِ اخلاق کا پیکر کسی کو نہ دیکھا اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کسی کو وعدہ پورا کرنے والا پایا ۔ [3]

بدر و اُحد میں شرفِ علمبرداری :

رمضان المبارک ۲ہجری بمطابق مارچ ۶۲۴ء میں میدانِ بدر میں جب اسلامی لشکر کی صفیں درست ہو گئیں تو شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو لشکرِ اسلام کی علمبرداری کا فریضہ سونپا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی منشا کے مطابق پرچمِ اسلام کو اٹھا کر اس کی مخصوص جگہ گاڑ دیا اور اس کی حفاظت کرنے لگے ۔ [4]

اسی طرح شوال المکرم ۳ ہجری بمطابق مارچ 625ء میں جب دونوں لشکر میدانِ اُحد میں آمنے سامنے ہوئے تو ایک طرف ابو سفیان اپنے لشکر کی صفیں درست کرنے کے بعد بنو عبد الدار کے نوجوانوں کا جذبۂ بہادری ابھارتے ہوئے بولا : اگر کسی قوم کا پرچم جنگ کے دوران سرنگوں ہو جائے تو پھر قوم کا میدانِ جنگ میں جما رہنا ممکن نہیں ، لہٰذا اے بنو عبد الدار کے نوجوانو! ہمارے پرچم کی حفاظت کرنا تمہاری ذمہ داری ہے ۔ ابو سفیان کی یہ بات بنو عبد الدار کے نوجوانوں کے خون کو گرما گئی اور وہ بپھر کر بولے : اے ابو سفیان! کیا یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہم اپنے پرچم کو دشمن کے حوالے کر دیں گے ؟ ایسا ہر گز نہ ہو گا تم خود دیکھ لو گے ہم اس کی حفاظت میں گردنیں کٹا دیں گے ۔ پھر وہ نیزے تان کر پرچم کے گرد حصار باندھ کر کھڑے ہو گئے کہ کسی کو اس کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں گے ۔

اسی اثنا میں سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی مردانِ خدا کی صفوں کو درست فرما چکے تھے ۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا : مشرکینِ مکہ کا علمبردار کون ہے ؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی گئی : بنو عبد الدار ۔ پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ہم ان سے زیادہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اپنا پرچم بنو عبد الدار کے حوالے کریں ۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام لے کر پکارا : اَيْنَ مُصْعَبُ بْنُ  عُمَيْرٍ ؟ کہاں ہیں مصعب بن عمیر ؟ یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسی پکار کے انتظار میں تھے کہ کب ان کے آقا انہیں اس خدمت کے لیے آواز دیں ۔ چنانچہ فوراً حاضرِ خدمت ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں حاضر ہوں ۔ سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں مہاجرین کی علمبرداری کا شرف پانے کی نوید دی تو وہ یہ سعادت حاصل ہونے پر خوشی سے پھولے نہ سمائے اور انہوں نے پرچمِ اسلام کو تھام کر سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے مخصوص جگہ نصب کر دیا ۔  [5]

امام محمد بن يوسف صالحي شامي عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (متوفی۹۴۲ھ) سُبُلُ الْهُدىٰ وَالرّشَاد میں فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مہاجرین کا علم امیر



[1]    ترمذى، كتاب صفة القيامة والرقائق والورع، الحدیث : ۲۴۸۲، ج  ۴، ص۲۱۵

[2]    مراٰۃ المناجیح ، کتاب الرقاق، ج ۷، ص۱۷۰

[3]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ج۳، ص۸۷

[4]     المغازی للواقدی، ج۱، ص ۵۶

[5]     المغازی للواقدی، ج۱، ص ۲۲۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن