دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabi ki Infiradi koshish | صحابی کی انفرادی کوشش

book_icon
صحابی کی انفرادی کوشش

اور پیغمبرِ اسلام صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سکھائے ہوئے طریقۂ دعوت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں ۔ چنانچہ دعوت کی اہمیت (اَہم ۔ می ۔ یت) یعنی قدرو منزلت اور ضرورت کا اندازہ اِس بات سے لگائیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے خود اپنے محبوبِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آدابِ دعوت اِرشاد فرمائے ہیں ۔ جیسا کہ پارہ 14سورۂ نحل کی آیت نمبر 125میں ہے :

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ- (پ۱۴، النحل : ۱۲۵)

ترجمۂ کنز الایمان : اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! ہمارے پیارے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں احسن طریقے سے دوسروں کو نیکی کی دعوت دینے کی تلقین فرمائی ہے ، ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاقِ حسنہ اور اندازِ حسنِ تبلیغ کو دیکھئے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے پروردگار کی عطا کردہ توفیقِ موعظہ حسنہ سے وحشت و بربریت سے لبریز خونریز انسانِ بد تر از حیوان کو کس طرح انسانیت کے بلند و بالا منصب پر فائز فرما دیا ۔ ہمارے آقا بگڑے ہوؤں کی کس حسنِ تدبیر سے تقدیر کو بدلتے تھے اس کی ایک حسین جھلک ملاحظہ ہو ۔

مجھے گناہ کی اجازت دیجئے :

ایک نوجوان ہم غمزدوں کے دلوں کے چین، سرورِ کونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے زنا کی اجازت دیجئے ۔ یہ سنتے ہی تمام صحابۂ کرام جلال میں آ گئے اور اسے مارنا چاہا تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اس کو مت مارو ۔ پھر اس کو اپنے پاس بلا کر بٹھایا اور نہایت ہی نرمی کے ساتھ فرمایا : اے نوجوان مرد! کیا تجھے پسند ہے کہ کوئی شخص تیری ماں سے ایسا فعل کرے ؟ اس نے عرض کی : میں اس کو کس طرح رَوا (جائز ومباح) رکھ سکتا ہوں ؟ تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : پھر دوسرے لوگ تیرے بارے میں اس کو کس طرح رَوا رکھ سکتے ہیں ؟ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا : تیری بیٹی سے اگر ایسا کرے تو کیا تو اس کو پسند کرے گا ؟ عرض کی : جی نہیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر پوچھا کہ تیری بہن سے اگر کوئی ایسی ناشائستہ حرکت کرے یا پھر خالہ سے ؟ اسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک ایک رشتے کے متعلق سوال فرمایا اور وہ کہتا رہا مجھے پسند نہیں اور لوگ بھی رضا مند نہیں ۔ تب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر بارگاہِ خداوندی میں عرض کی : یا الٰہی! اس کے دل کو پاک فرما دے اور اس کی شرمگاہ کو بچا لے اور اس کا گناہ بخش دے ۔ اس کے بعد وہ شخص تمام عمر زِنا سے بیزار رہا ۔ [1]

اِجابت کا سہرا عنایت کا جَوڑا

دُلہن بن کے نکلی دعائے محمد

اِجابت نے جھک کر گلے سے لگایا

بڑھی ناز سے جب دعائے محمد

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ حضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانِ حق ترجمان سے نکلا ہوا ہر ایک لفظ اس نوجوان کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھا اور پھر آپ کی دعا کی برکت سے وہ نوجوان ہمیشہ کے لیے اس فعلِ بد سے تائب ہو گیا ۔ لہٰذا مبلغین پر بھی لازم ہے کہ انفرادی کوشش کے دوران ایسے الفاظ کا انتخاب فرمائیں جو نہ صرف مخاطب کے جگر میں تاثیر کا تیر بن کر پیوست ہو جائیں بلکہ اسے گناہوں بھرے ماحول سے نکال کر قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ بھی کر دیں اور وہ ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلوں کا مسافر بن جائے یا پھر مسافر بننے کی نیت کر لے ۔

سَیِّدُنا مُصْعَب بِن عُمَیْر کے دیگر اوصافِ حمیدہ

زُہد و تقویٰ :

حضرت سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا میں تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مصاحبت میں رہتے ہوئے ہم پر رنج و الم کے زہر آلود تیر برسے لیکن ہم نے انہیں اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کی ڈھال پر لے لیا ۔ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ قبولِ اسلام سے پہلے سونے کے چمچ سے کھانے اور انتہائی قیمتی لباس پہننے والے نوجوان تھے ، مگر قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے زہد و تقویٰ کے آبخورے خوب بھر بھر کر پئے اور اس قدر مشقتیں برداشت کیں کہ میں نے دیکھا ان کی کھال سانپ کی کینچلی (سانپ کی جلد پر سفید جالی نما شفاف جھلی) کی طرح جسم سے جدا ہو رہی تھی ۔ [2]

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سونا بھٹی سے گزرنے کے بعد جس طرح کندن ہو جاتا ہے اسی طرح حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی راہِ خدا میں ہر قسم کے مصائب و آلام سہنے کے سبب استقامت کا پہاڑ بن چکے تھے ۔ دین متین کی خاطر تکالیف سہنا ان کے حق میں گویا موسم بہار کا آنا تھا ۔

بارگاہِ رسالت میں پذیرائی :

دنیاوی عیش و عشرت کی سحر انگیزیوں کو پرِکاہ (گھاس کے تنکے ) کے برابر بھی نہ سمجھنے والے اور ابدی نعمتوں کے حصول کی خاطر صحرا کے خاروں (کانٹوں ) کو گلے لگانے والے حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی بے شمار خوبیوں کے ساتھ ساتھ زہد و تقویٰ کی بنا پر بارگاہِ رسالت میں انتہائی مقبول تھے ، ایک مرتبہ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اختیاری فقر و فاقہ کا عالم دیکھ کر چشمانِ سرکار بھی اشکبار ہو گئیں ۔ چنانچہ،

 



[1]    مسند احمد، الحدیث : ۲۲۲۷۴، ج۸، ص ۲۸۵

[2]    اسد الغابۃ، باب مصعب بن عمیر، ج۵، ص ۱۹۱ ماخوذاً

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن